اپنے بیان کے دوسرے حصے میں ہزاروں فرزندان توحید سے خطاب کرتے ہوئے شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے کہا تمام مذاہب ومسالک کے پیروکار اپنی مذہبی تقاریب اس انداز میں منعقد کرائیں کہ دیگر مسالک کی مقدسات کی توہین نہ ہو۔ خاص طور پر شیعہ حضرات اپنی دینی تقاریب سوچ سمجھ کر منعقد کریں اور اہل سنت کی مقدسات کی گستاخی سے گریز کریں۔
خطیب اہل سنت زاہدان مولانا عبدالحمید نے اہل سنت اور اہل تشیع کو دو اہم مسلک قرار دیتے ہوئے کہا جس طرح ان دو مسلکوں کے درمیان بہت سارے مشترکات پائے جاتے ہیں اسی طرح بعض امور میں اختلاف رائے بھی ہے۔ جو مسائل اختلافی ہیں تو وہ متعلقہ مسلک والوں کے ساتھ خاص ہیں۔ ہمیں مشترکہ امور پر زور دینا چاہیے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے بات آگے بڑھاتے ہوئے مزید کہا: جو مسائل اور تہوار کسی مسلک کے ساتھ خاص ہیں وہ انہی مسلک کے ماننے والوں کے لیے اہم ہیں دوسروں کے لیے نہیں۔ جیسا کہ اٹھارہ ذوالحجہ کو شیعہ برادری ’’عید غدیر خم‘‘ کے عنوان سے مناتے ہیں۔ میری نصیحت یہ ہے کہ جو تہوار مخصوص ہیں ان کا انعقاد اس طرح ہونا چاہیے کہ دیگر مسالک کے پیروکاروں کی دل آزاری نہ ہو۔
زاہدان کی جامع مسجد مکی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے تاکید کی کہ ایسی مجلسوں اور جلوسوں میں صحابہ کرام اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخی نہیں ہونی چاہیے، اہل سنت کی مقدس شخصیات کی عزت واحترام کا خیال رکھنا از حد ضروری ہے۔ ان کی شان میں بے حرمتی وگستاخی بہت سنگین جرم اور غلطی ہے۔ مسلمانوں کو ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام