ہندوستان/ملک کے ممتاز اسلامی عالم، مصنف اور خطیب مولانا سید سلمان حسینی ندوی پیر کی صبح لکھنؤ میں ۷۲؍ برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وہ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے ممتاز اساتذہ میں شمار ہوتے تھے اور دینی، تعلیمی، فکری اور بین الاقوامی علمی حلقوں میں ان کی خدمات کو غیر معمولی اہمیت حاصل تھی۔ ان کے انتقال کی خبر منظر عام پر آتے ہی علماء، مذہبی اداروں، شاگردوں اور مختلف سماجی شخصیات نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ ان کی وفات کو ہندوستان کی دینی و علمی دنیا کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔
ملک کے معروف اسلامی اسکالر، مصنف اور ممتاز دینی رہنما مولانا سید سلمان حسینی ندوی پیر کی صبح لکھنؤ میں ۷۲؍ سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کی خبر عام ہوتے ہی ملک و بیرون ملک کے علمی، دینی اور سماجی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ متعدد علماء، دینی اداروں، طلبہ اور عقیدت مندوں نے ان کی وفات پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملت اسلامیہ اور علمی دنیا کے لیے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا۔
مولانا سلمان حسینی ندوی کا تعلق ہندوستان کے معروف علمی خانوادے سے تھا۔ وہ دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ سے طویل عرصے تک وابستہ رہے اور دعوت و تبلیغ، علوم حدیث، فقہ، عربی ادب اور اسلامی فکر کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے مختلف ادوار میں تدریس، تصنیف اور بین الاقوامی علمی مکالموں میں فعال کردار ادا کیا، جس کے باعث انہیں برصغیر ہی نہیں بلکہ عرب دنیا سمیت کئی ممالک میں بھی ایک معتبر اسلامی اسکالر کی حیثیت سے جانا جاتا تھا۔
انہوں نے عربی اور اردو زبان میں متعدد کتابیں تصنیف کیں اور مختلف علمی و تحقیقی جرائد کی ادارت بھی کی۔ ان کی تقاریر، دینی دروس اور علمی مضامین دنیا بھر میں شائع اور نشر ہوتے رہے۔ کئی تعلیمی، طبی اور سماجی اداروں کے قیام و سرپرستی میں بھی ان کا اہم کردار رہا، جس کی وجہ سے انہیں محض ایک مذہبی عالم نہیں بلکہ ایک فعال تعلیمی مصلح کے طور پر بھی دیکھا جاتا تھا۔ مولانا کی علمی زندگی کئی دہائیوں پر محیط رہی۔ انہوں نے ہندوستان سمیت مختلف ممالک میں قرآن، حدیث، اسلامی فقہ، دعوت اور عصری مسائل پر خطابات کیے۔ ان کے شاگردوں اور مستفیدین کی بڑی تعداد ہندوستان، خلیجی ممالک، یورپ، امریکہ اور افریقہ میں موجود ہے۔ ان کی شخصیت نے دینی تعلیم اور جدید تقاضوں کے درمیان مکالمے کو فروغ دینے کی کوشش کی، جس کے باعث وہ مختلف علمی حلقوں میں ایک نمایاں مقام رکھتے تھے۔
ان کے انتقال پر مختلف مذہبی و سماجی شخصیات نے تعزیتی پیغامات جاری کیے اور ان کی علمی، تعلیمی اور دینی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا۔ سوشل میڈیا پر بھی ہزاروں افراد نے ان کی وفات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ان کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔
مولانا سلمان حسینی ندوی کی وفات سے ہندوستان کی دینی و علمی روایت کا ایک اہم باب اختتام پذیر ہوگیا۔ ان کی تصانیف، خطابات، علمی خدمات اور ہزاروں شاگرد آئندہ نسلوں کے لیے ان کی یادگار کے طور پر باقی رہیں گے۔ علمی حلقوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسلامی علوم کی تدریس اور فروغ کے میدان میں جو خدمات انجام دیں، وہ ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
اسرائیلی محاصرے کے باعث مغربی کنارے میں 80,000 فلسطینی طلبہ اسکول جانے سے محروم
امانت داری اہم اخلاقی قدر ہے؛ زندگی کے تمام شعبوں میں اس کا لحاظ رکھنا…
مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) عصر حاضر کی ایک نہایت اہم اور تیزی سے ترقی کرنے…
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔