بيانات

مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران کے لیے ’’بدعنوانی‘‘ اور ’’انتہاپسندی‘‘ کا راستہ روکنا ہوگا

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 19 جون 2026ء کے خطبۂ جمعہ میں ایران اور امریکہ کے درمیان امن کے مفاہمتی معاہدے پر دستخط کا حوالہ دیتے ہوئے اسے ایرانی قوم کے حق میں قرار دیا۔ انہوں نے ’’بدعنوانی کے خلاف جدوجہد‘‘ اور ’’بدعنوان و انتہاپسند افراد کی جگہ قابل، باصلاحیت اور معتدل افراد کو لانے‘‘ کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اس معاہدے کے فوائد کو بچایا جاسکے، اور اسے ’’ایک خوشحال اور بہتر ایران‘‘ کے لیے ناگزیر قرار دیا۔

مشرق وسطیٰ مختلف اقوام اور ممالک کی معاشی شہ رگ ہے؛ اس کا امن ’’عقل اور درست سیاست‘‘ کا تقاضا ہے
سنی آن لائن کے مطابق، مولانا عبدالحمید نے کہا: ہم سب ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی معاہدے پر خوش ہیں۔ ہم امن کے حامی ہیں اور اسے پوری دنیا کے لیے مفید سمجھتے ہیں، اور ہمارا یقین ہے کہ یہ امن ایرانی قوم کے حق میں ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا: مشرق وسطیٰ دنیا کی اقوام اور ممالک کی اقتصادی شہ رگ ہے اور بہت سے ممالک کی توانائی اسی خطے سے فراہم ہوتی ہے۔ لہٰذا عقل اور درست سیاست کا تقاضا ہے کہ مشرق وسطیٰ، جو گزشتہ برسوں میں اختلافات اور جنگوں کا شکار رہا ہے، اب امن حاصل کرے اور سب لوگ امن و سلامتی کے سائے میں اس خطے کے فوائد سے مستفید ہوں۔

مشرق وسطیٰ ایک جامع، ہمہ گیر اور پائیدار امن کا محتاج ہے جو تمام تنازعات کا خاتمہ کرے
انہوں نے کہا: مشرق وسطیٰ کو ایسے جامع، ہمہ گیر اور پائیدار امن کی ضرورت ہے جو اسرائیل اور فلسطینیوں کے دیرینہ تنازعے کا بھی خاتمہ کرسکے اور مسئلۂ فلسطین کا منصفانہ حل پیش کرے۔ روس اور یوکرین کی جنگ کو بھی امن پر منتج ہونا چاہیے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام ممالک کے درمیان ایک بین الاقوامی معاہدہ طے پائے تاکہ ماضی کے تنازعات ختم ہوں اور سب اقوام امن و سکون حاصل کریں۔

ملک میں مالی بدعنوانی عروج پر ہے؛ عوام کو ان منجمد اثاثوں کے ضائع ہونے کی فکر ہے جو آزاد ہونے والے ہیں
خطیبِ جمعہ زاہدان نے بعض داخلی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ہم سب جانتے ہیں کہ ملک کے بہت سے شعبوں میں بدعنوانی عروج پر ہے۔ پابندیوں کا خاتمہ اور ملک کے منجمد اثاثوں کی آزادی، جو ایرانی قوم کے مطالبات میں شامل تھی، ایران اور امریکہ کے مفاہمتی معاہدے کی شقوں میں سے ایک ہے اور عوام اس پر خوش ہیں۔
انہوں نے کہا: لیکن عوام کو یہ تشویش لاحق ہے کہ اگر موجودہ مالی بدعنوانیوں کا خاتمہ نہ ہوا تو ان اثاثوں کا ایک بڑا حصہ انہی بدعنوانیوں کی نذر ہوجائے گا اور وہ ایرانی عوام، جنہوں نے برسوں تک محرومی اور مشکلات برداشت کی ہیں، ان وسائل سے محروم رہ جائیں گے اور ان کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔

’’نااہل‘‘، ’’بدعنوان‘‘ اور ’’انتہاپسند‘‘ افراد کو ہٹا دیں اور ’’لائق‘‘، ’’دیانتدار‘‘ اور ’’معتدل‘‘ افراد کو ذمہ داریاں دلوائیں
مولانا عبدالحمید نے حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: یہ معاہدہ اور امن ایرانی عوام کے حق میں ہے، جو برسوں سے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ حکام بلا امتیاز ان نااہل افراد کو برطرف کریں جو بدعنوانی میں ملوث ہیں یا بعض مراکز سے وابستہ ہیں، اور ان کی جگہ قابل، لائق اور ضمیر رکهنے والے افراد کو لائیں، خواہ وہ مذہبی افراد نہ بھی ہوں۔ جب تک ایران سے بدعنوانی کا خاتمہ نہیں ہوگا، ایران حقیقی معنوں میں ترقی نہیں کرسکے گا۔
انہوں نے مزید کہا: دوسرا اہم کام یہ ہے کہ انتہاپسند اور سخت گیر عناصر کو سبکدوش کیا جائے، کیونکہ ملک اور قوم کی بیشتر مشکلات اور بدحالی کی جڑ یہی انتہاپسندی ہے۔ بارہا کہا جا چکا ہے کہ انتہاپسندی دین و مذہب کو نقصان پہنچاتی ہے اور ممالک و اقوام کو تباہی سے دوچار کرتی ہے۔
انہوں نے کہا: ضروری ہے کہ معتدل اور صاحبِ تدبر سیاست دان اعلیٰ اور درمیانی سطح کے انتظامی و فیصلہ ساز مناصب پر فائز ہوں تاکہ ملک درست راستے پر گامزن ہوسکے۔ جب تک ملک اعتدال اور صحیح سمت اختیار نہیں کرتا، مسائل حل نہیں ہوں گے۔

داخلی اور خارجی پالیسیاں ’’ایران اور دنیا کے مفادات‘‘ اور ’’اقوام کے ساتھ خوشگوار تعلقات‘‘ کے مطابق ہونی چاہئیں؛ یہی ایرانی قوم کی خواہش ہے
خطیبِ جمعہ زاہدان نے داخلی اور خارجی پالیسیوں میں تبدیلی پر زور دیتے ہوئے کہا: ایرانی عوام کی عمومی خواہش ہے کہ خارجہ پالیسیاں ایران اور دنیا کے مفادات، باہمی احترام اور تمام اقوام کے ساتھ اچھے تعلقات کے مطابق ہوں۔
انہوں نے مزید کہا: ایرانی عوام نے 2019ء، 2022ء اور جنوری 2026ء میں احتجاج کیا اور افسوس کے ساتھ جانی نقصانات بھی اٹھائے۔ لہٰذا توقع ہے کہ اس قوم کی آواز سنی جائے اور اس کے مطالبات پر توجہ دی جائے، اور داخلی و خارجی پالیسیاں عوام اور ملک کے مفادات کے مطابق ترتیب دی جائیں۔

ایک بہتر اور خوشحال ایران ’’قومیتوں اور مذاہب کے درمیان عدل و انصاف‘‘، ’’خواتین کے حقوق کے احترام‘‘ اور ’’ضروری آزادیوں کی فراہمی‘‘ سے وابستہ ہے
مولانا عبدالحمید نے کہا: ایرانی قوم مختلف قومیتوں، مسالک اور ادیان پر مشتمل ایک متنوع قوم ہے، اس لیے ضروری ہے کہ نئے حالات میں ان سب کو نظر میں رکھا جائے۔ اگر حکام لسانی و مذہبی برادریوں کے درمیان عدل و انصاف قائم کریں، خواتین کے حقوق کا احترام کریں، کارکنوں، جماعتوں اور تنظیموں کے لیے ضروری آزادیوں کو یقینی بنائیں اور گزشتہ برسوں کی سختیوں کو ختم کریں تو ایران ایک بہتر اور خوشحال ملک بن سکتا ہے۔

’’مذہبی سیاست‘‘ کے ذریعے ایران کو نہیں چلایا جا سکتا
انہوں نے واضح کیا: اگر حکام صرف مذہبی بنیادوں پر سیاست کریں تو وہ پورے ایران کو نہیں چلا سکتے، کیونکہ ایران کے تمام باشندے ایک ہی مذہبی رجحان نہیں رکھتے؛ یہاں شیعہ، سنی، مسلمان اور غیر مسلم سب بستے ہیں، اور مذہبی سیاست دوسروں میں ناراضگی پیدا کرتی ہے۔ اگر داخلی اور خارجی پالیسیاں عوام کے دین و دنیا کے مفادات کے مطابق ہوں تو اللہ اور عوام دونوں ان کی حمایت کریں گے۔

’’سزائے موت‘‘ اور ’’مخالفین کی جائیداد کی ضبطی‘‘ بند کی جائے / اکثر لوگ حالیہ پھانسیوں کو ’’سیاسی‘‘ سمجھتے ہیں
ایران کے ممتاز عالم دین نے ملک میں بڑھتی ہوئی پھانسیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا: افسوس کے ساتھ حالیہ عرصے میں سزائے موت کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ جیلوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بڑی تعداد میں افراد پھانسی کے منتظر ہیں جن میں بلوچوں کا تناسب زیادہ بتایا جاتا ہے، جبکہ دیگر قومیتوں کے افراد بھی شامل ہیں۔
انہوں نے حکام سے کہا: ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں اور دوبارہ کہتے ہیں کہ ان پھانسیوں کو روکا جائے۔ ایرانی عوام کی اکثریت کا تاثر یہ ہے کہ یہ تمام پھانسیاں سیاسی نوعیت کی ہیں اور احتجاجات کو روکنے کے لیے دی جا رہی ہیں، اگرچہ انہیں منشیات کے مقدمات کا عنوان دیا جائے۔ اسی طرح ہم حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مخالفین کی املاک کی ضبطی بھی بند کی جائے۔

ہم ایران میں عدل اور خوشحالی چاہتے ہیں؛ ہماری خواہش ہے کہ ایرانی عوام عزت کے ساتھ زندگی گزاریں
مولانا عبدالحمید نے کہا: میں خود کو قوم کا نمائندہ نہیں سمجھتا، لیکن ایک خیرخواہ شہری کی حیثیت سے ایران میں عدل اور ترقی کا خواہاں ہوں تاکہ عوام آسودہ ہوں، عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزاریں اور سکون کا سانس لے سکیں۔
انہوں نے حکام سے کہا: ہم آپ کے دشمن نہیں بلکہ خیرخواہ ہیں۔ اگر ماضی میں ان باتوں پر توجہ دی جاتی جنہیں میں بار بار بیان کرتا رہا ہوں تو یقیناً ایران کسی جنگ کا شکار نہ ہوتا اور عوام کو یہ جانی نقصانات نہ اٹھانے پڑتے۔

جنوبی کرمان میں احتجاج کرنے والی خواتین کے ساتھ رویہ ’’ہتک آمیز‘‘ تھا؛ حکام ان کی آواز سنیں
مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے ایک حصے میں سیستان و بلوچستان کے ضلع تفتان اور صوبۂ کرمان کے ایک علاقے میں پیش آنے والے حالیہ واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا: حال ہی میں ان علاقوں میں کان کنی کی سرگرمیوں کے خلاف بعض خواتین نے احتجاج کیا۔ ان احتجاجات کے دوران خواتین کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا گیا جو کرمان میں خاص طور پر توہین آمیز تھا۔
انہوں نے زور دیا کہ پولیس اور صوبۂ کرمان کے دیگر حکام اس مسئلے پر توجہ دیں، اس کی تحقیقات کریں اور ان خواتین کے مطالبات کو سنیں۔

تفتان کے عوام کان کنی سے نقصان اٹھا رہے ہیں؛ ان پراجیکٹس میں مقامی لوگوں کے مفادات کا خیال رکھا جائے
انہوں نے مزید کہا: تفتان میں بھی احتجاج کرنے والی خواتین کے ساتھ بعض نامناسب رویے اختیار کیے گئے، اگرچہ حکام کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیقات کی جا چکی ہیں۔ تاہم اصل مسئلہ یہ ہے کہ تفتان کے لوگ کان کنی کی وجہ سے خصوصاً زراعت اور مویشی پروری کے شعبوں میں نقصان اٹھا رہے ہیں۔ جب تک ان کی آواز نہیں سنی جائے گی اور ان کے حقوق و مفادات کا خیال نہیں رکھا جائے گا، ایسے احتجاجات دوبارہ سامنے آسکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان مسائل کا بنیادی حل تلاش کیا جائے اور ان کانوں سے مقامی آبادی کو بھی فائدہ پہنچے۔

حکام زاہدان میں پانی کی بندش کے مسئلے پر توجہ دیں / سیستان کے پانی کا درست انتظام ضروری ہے
مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے آخری حصے میں زاہدان میں بار بار پانی کی فراہمی معطل ہونے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: ہم زاہدان کے حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ شہری پانی کی بندش کے مسئلے پر توجہ دیں اور پوری کوشش کریں کہ پانی کی بندش کم سے کم ہو۔ اگر مکمل حل ممکن نہ ہو تو کم از کم ایسا انتظام کیا جائے کہ پانی کی تقسیم منصفانہ طریقے سے ہو۔
انہوں نے اسلامی امارتِ افغانستان کا ایک بار پھر شکریہ ادا کیا کہ اس نے سیستان کے علاقے کی جانب پانی چھوڑا، اور اس عمل کے تسلسل کی امید ظاہر کرتے ہوئے ’’سیستان کے پانی کے درست انتظام‘‘ پر زور دیا تاکہ وہاں کے لوگوں کی موسمی کھیتی باڑی متاثر نہ ہو۔

baloch

Recent Posts

کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے والوں کے لیے نجات کا آخری راستہ ہے

کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…

12 hours ago

زاہدان کے علما و قرآنی کارکنان کا مشاورتی اجلاس منعقد

زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…

12 hours ago

مولانا مفتی محمدقاسم بنی‌کمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام

مولانا مفتی محمدقاسم بنی‌کمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام

4 days ago

ایرانی عوام کے حقوق دیگر تمام امور پر مقدم ہیں / مشرقِ وسطیٰ کو ایک منصفانہ، جامع اور پائیدار امن کی ضرورت ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان کے ۱۱ جون ۲۰۲۶ء کے خطبہ جمعہ میں ملک…

6 days ago

تمام انسان خانۂ کعبہ کی برکات سے مستفید ہوتے ہیں

مفتی محمدقاسم قاسمی نے 5 جون 2026ء کو زاہدان کے نمازِ جمعہ اجتماع میں خانۂ…

2 weeks ago

دنیا میں تمام گناہوں اور فساد کا سرچشمہ آخرت پر یقین کا نہ ہونا یا اس کی کمزوری ہے

دنیا میں تمام گناہوں اور فساد کا سرچشمہ آخرت پر یقین کا نہ ہونا یا…

3 weeks ago