اسرائیلی صدرکاہندوستان میں استقبال ملک کی انسانیت دوست شبیہ کوداغدارکرناہے:محمودمدنی

جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے اسرائیل کے صدر رووین ریولن کی ہندستان آمد اور پچیس سالہ سفارتی تعلقات کا جشن منانے پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ہندستان کی صدیوں کی تہذیب وروایت پر حملہ قراردیاہے ۔
مولانا مدنی نے کہا کہ ہندستان نو آباد استعماری طاقتوں کے مظالم کا دکھ اور درد جھیل چکا ہے ، یہی وجہ ہے کہ ملک کے معماروں نے آزادی وطن کے بعد استعماریت اور نسل پرست طاقتوں کے مقابلے ہمیشہ مظلومو ں کا ساتھ دیا، لیکن موجودہ سرکار ان تمام پالیسیوں کو بدل کر ملک کی انسانیت دوست شبیہ کو داغدار کرنے پر تلی ہوئی ہے۔انھوں نے کہا کہ آج سے پچیس سال قبل ۱۹۹۲ء میں ہندستان نے قیام امن کی کوشش کے مقصد سے اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کیے تھے ، لیکن اب وہ غاصب اور نسل پرست حکومت کی حمایت میں تبدیل ہو تے جارہے ہیں۔اسرائیل کے ساتھ جشن میں شریک ہونا یا اقتصادی و معاشی تعلق قائم کرنا اس کے جنگی جنون ،نسل پرست سوچ اور نسل کشی میں مالی واخلاقی مدد کرنے کے مترادف ہے ۔
ایسے قابض اور غاصب ملک کے ساتھ تعلق کا پچیس سال، جشن کا نہیں بلکہ نظرثانی اور اظہار افسوس کا موقع ہے ۔ہمیں ہماری روایت اور تہذیب یہ سوچنے پر آمادہ کرتی ہیں کہ پچھلے پچیس سالوں میں اسرائیل نے ہزاروں عورتوں،بچوں اور معصوم انسانوں کو بلاسبب ہلاک کیا ہے یا انھیں اپنے ہی وطن میں محصور یا بے وطن ہونے پر مجبور کیا ہے ۔
مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند، ہنداور اسرائیل کے بڑھتے تعلقات کی سخت مذمت کرتا ہے اور ملک کے پالیسی سازوں کو متنبہ کرتا ہے کہ ایسے ظالم ملک سے تعلق بڑھانا جس پر جنگی جرائم ثابت ہو چکے ہیں ، ہر گز گاندھی اور نہرو کے ملک کو شوبھا نہیں دیتا ۔
مولانا مدنی نے کہا کہ اسرائیل ہمیشہ بین الاقوامی اصولوں کی پامالی کرتا رہا ہے ، حال میں اذان و عبادتوں پر پابندی عائد کرنے سے متعلق قانون کی منظوری اس کی ایک زندہ مثال ہے ،انہیں حالات کے مدنظر جمعیۃ علماء ہند نے اپنے ۳۳؍ویں اجلاس عام میں ایک تجویز بھی منظور کی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے’’ اگر عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی قراردادو ںکی اسرائیل پابند نہیں ہے اوروہ مطالبات کے باوجود ناکہ بندی کرکے لاکھوں انسانوں کو قید کی زندگی گزارنے پر مجبور کررہا ہے ،تو اس میں کیا تاخیر ہے کہ اسرائیل کو ایک دہشت گرد ملک قرار دینے کی تجویز لائی جائے اور اس پرمعاشی پابندیاں نافذ کی جائیں ۔‘‘
مولانا مدنی نے اس سلسلے میں ۳۵؍قومی اور بین الاقوامی اداروں اور سو اہم شخصیات کی جانب سے جاری مذمتی بیان کی مکمل تائید کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہندستان، اسرائیل کے ساتھ اپنے معاشی ، سیکوریٹی اور ملٹر تعلقات کو فوری طور سے معطل کرے اور وزیر اعظم ہند اسرائیل دورے کا اپنا ارادہ ترک کردیں۔ مولانا مدنی نے کہا کہ اگر اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر نظر ثانی نہیں کی گئی تو جمعیۃ علماء ہند ملک کے انصاف پسندوں کے ساتھ مل کر عوامی احتجاج کرنے پر مجبور ہو گی ۔

بصیرت آن لائن

baloch

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago