بيانات

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے پہلے حصے میں «اللہ کی راہ میں جہاد» کے وسیع پہلوؤں کو بیان کیا اور «نفس امارہ سے مقابلہ اور اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کے احکامات کی اطاعت»، «امر بالمعروف اور نہی عن المنکر»، «حق کا دفاع» اور «گناہوں اور سماجی برائیوں کا مقابلہ» کو «جہاد» کی واضح مثالیں قرار دیا۔
سنی آن لائن کی رپورٹ کے مطابق، مولانا عبدالحمید نے آیت «وَجَاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ هُوَ اجْتَبَاكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ مِلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِنْ قَبْلُ وَفِي هَذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَاعْتَصِمُوا بِاللَّهِ هُوَ مَوْلَاكُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ النَّصِيرُ» [حج: 78] کی تلاوت کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہم مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ ہم جان و مال سے اللہ کی راہ میں «جہاد» کریں اور پوری طاقت کے ساتھ حق کے راستے پر چلیں اور معاشرے میں حق کو پھیلائیں۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ «جہاد» صرف ان جارحین، غاصبوں اور غیر مسلموں سے لڑنے کا نام ہے جو تکبر کا مزاج رکھتے ہیں، عدل و انصاف کو نہیں مانتے اور دوسروں کے حقوق غصب کرتے ہیں، حالانکہ یہ «جہاد» کی ایک قسم ہے اور جہاد کے درجات اس سے کہیں زیادہ بلند ہیں۔
انہوں نے «نفس امارہ کے خلاف جہاد» کو سب سے بڑا جہاد قرار دیا اور کہا: حدیث میں آیا ہے کہ «و المُجَاهِدُ مَن جَاهَدَ نَفسَهُ في طَاعَةِ اللهِ»۔ سب سے بڑا مجاہد اور فاتح وہ ہے جو سرکش نفس امارہ سے مقابلہ کرے اور اپنے نفس پر فتح پائے۔ یہ جہاد انسان پر اس وقت تک فرض ہے جب تک وہ زندہ ہے، کہ وہ نفس کو ظلم کرنے اور دوسروں کے حقوق تلف کرنے سے روکے اور اسے قرآن اور سیرت رسول اللہ ﷺ کے راستے پر گامزن کرے۔

اپنے گھر میں الہی احکامات اور ہدایات پر عمل کر کے بھی آپ «مجاہد» بن سکتے ہیں
زاہدان کے خطیب جمعہ نے مزید فرمایا: الہی احکامات پر عمل کرنا اور اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے۔ نفس امارہ انسان کو زکوٰۃ ادا کرنے سے روکتا ہے، اسی لیے جس شخص کو اللہ نے چالیس ارب تومان کا سرمایہ دیا ہے، اس کے لیے ایک ارب زکوٰۃ کے طور پر دینا مشکل ہو جاتا ہے؛ حالانکہ چالیس ارب کے مقابلے میں ایک ارب بہت کم ہے اور زکوٰۃ ادا کرنے سے انسان کو ثواب بھی ملتا ہے، وہ اللہ کی رضا بھی حاصل کرتا ہے، اور اس کے مال و دولت میں برکت بھی آتی ہے۔
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا: جو شخص ساری رات جاگتا ہے اور اذان کے قریب سو جاتا ہے اور فجر کی نماز کے لیے نہیں اٹھتا، اس شخص نے نفس امارہ کے ساتھ جہاد نہیں کیا۔ لہذا جہاد آپ کے گھر میں ہے اور آپ اپنے گھر میں الہی احکامات پر عمل کر کے بھی «مجاہد» بن سکتے ہیں۔

رات کو جاگنا اور دن کو سونا ایک ایسی آفت ہے جس نے ہمارے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے
مولانا عبدالحمید نے مزید معاشرے میں رات گئے تک جاگنے کے رجحان میں اضافے پر تشویش اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا: عشاء کی نماز کے بعد سونا سنت میں شامل ہے۔ آنحضرت ﷺ صحابہ کرام کو تلقین فرماتے تھے کہ عشاء کی نماز کے بعد سو جائیں اور رات کے آخری پہر نماز اور عبادت کے لیے اٹھیں۔
انہوں نے مزید کہا: راتوں کو جاگنا اور دنوں میں سونا ایک ایسی آفت ہے جس نے بدقسمتی سے ہمارے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ بدقسمتی سے بہت سے نوجوان ساری رات موبائل فون میں مگن رہتے ہیں، جاگتے رہتے ہیں اور دن کو سوتے ہیں، جبکہ رات کو جلدی سونا جو کہ جسم کی ضرورت اور فطرت کے عین مطابق ہے، انسان کی ذہنی اور جسمانی بیماریوں کو دور کرتا ہے، لیکن دن کی نیند مختلف قسم کی جسمانی اور ذہنی بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگوں کے کھانے کے اوقات بھی صحت مند فطرت کے خلاف ہیں؛ اگر کھانا اپنے مناسب وقت پر کھایا جائے تو یہ جسم کو طاقت بخشتا ہے، لیکن جو شخص آدھی رات کو کھانا کھاتا ہے وہ معدے وغیرہ کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ دن کو سونا انسان کے رزق میں کمی لاتا ہے اور انسان سے زندگی کی لذت چھین لیتا ہے۔ لہذا سب لوگ اس مسئلے سے نمٹنے کا فیصلہ کریں۔

“درست تربیت” بچوں کے لیے والدین کی بہترین میراث ہے
زاہدان کے خطیب جمعہ نے والدین کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: والدین کو میری نصیحت ہے کہ رات کو جاگنے کی بدعت اپنے خاندان میں بچوں کے لیے وراثت میں نہ چھوڑیں۔ اگر آپ والدین رات کو جلدی سوئیں گے اور موبائل میں نہیں الجھیں گے تو بچے بھی آپ سے سیکھیں گے۔ بچوں کے موبائل کے استعمال کو منظم اور کنٹرول کریں۔
انہوں نے مزید کہا: بہترین میراث جو آپ والدین اپنے بچوں کے لیے چھوڑتے ہیں، وہ درست تربیت ہے۔ اپنے بچوں کو سچائی اور راست بازی سکھائیں اور انہیں نصیحت کریں کہ وعدہ خلافی، عہد شکنی، لوگوں کو اذیت دینے اور دوسروں کا مال کھانے سے گریز کریں۔ اگر والدین جھوٹ بولیں یا مجرم، اغوا کار، ڈاکو اور بد اخلاق ہوں، تو ان کے بچے بھی انہی صفات پر پروان چڑھتے ہیں، لیکن اگر والدین دیندار اور ایماندار ہوں تو بچے بھی دیندار اور ایماندار بنتے ہیں۔

چور، اغوا کار اور مجرم کا دفاع کسی بھی صورت درست نہیں
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے «حق کے دفاع» کو «جہاد» کی ایک اور مثال قرار دیا اور کہا: امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور حق کا دفاع بھی «جہاد» ہے۔ ہر شخص کو اپنی استطاعت کے مطابق حکمت کے ساتھ حق بات کہنی چاہیے؛ چاہے وہ اس کے اپنے یا اس کے رشتہ داروں اور عزیزوں کے نقصان میں ہی کیوں نہ ہو۔ ہم کسی کی بے جا تعریف نہ کریں۔ کسی مینیجر یا عہدیدار کی چاپلوسی اور بے جا تعریف درست نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ اس عمل سے ناراض ہوتا ہے۔
انہوں نے «مجرم کے دفاع» کی شدید مذمت کی اور کہا: چور، اغوا کار، مجرم اور جس نے جرم کا ارتکاب کیا ہو، اس کا دفاع کرنا کسی بھی صورت میں درست نہیں ہے۔ ہمیں کسی مجرم، چور یا اغوا کار کا دفاع صرف اس لیے نہیں کرنا چاہیے کہ وہ ہمارا رشتہ دار ہے۔
زاہدان کے امام نے نشاندہی کی: بے گناہ کا دفاع کرنا اچھا ہے، لیکن اگر کوئی عالم، بزرگ، والدین یا رشتہ دار کسی مجرم کا دفاع کرے تو وہ گنہگار اور جرم میں شریک ہے۔ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں «فاطمہ» نامی ایک عورت نے چوری کی تھی اور کچھ لوگ اس لیے کہ اس پر شرعی حد نافذ نہ ہو، نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور سفارش کی اور کہا کہ اس حکم کے نفاذ سے قبیلے اور خاندان کی بدنامی ہوگی۔ آنحضرت ﷺ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا: اگر محمد ﷺ کی بیٹی فاطمہ بھی اس چوری کا ارتکاب کرتی تو میں اس پر شرعی حد نافذ کرتا۔

“سیاسی عدم استحکام” معاشی عدم استحکام کی وجہ ہے؛ ماضی کی ناکام پالیسیوں کو ترک کریں
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے بیان کے پہلے حصے میں عوام کی معاشی اور اقتصادی بحرانی صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ملک میں معاشی عدم استحکام کی بنیادی وجہ “سیاسی عدم استحکام” کو قرار دیا اور “ماضی کی ناکام پالیسیوں کو ترک کرنے” اور “نئی پالیسیاں اور طریقہ کار اپنانے” پر زور دیا۔

زاہدان کے مرکزی خطیب اہل سنت مولانا عبدالحمید نے نماز جمعہ کے خطبے کے ایک حصے میں فرمایا: جہاد صرف جارح اور غاصب کے خلاف لڑنا نہیں ہے، بلکہ “انصاف کا قیام” حکومت اور اقتدار والوں کے لیے سب سے بڑا جہاد ہے، اور کسی حکومت اور حکمران کے لیے انصاف قائم کرنے سے زیادہ اہم کوئی فرض اور ذمہ داری نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا: حکمران کو اپنی قوم کو مساوی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔ ایک حکمران کے لیے قطعی حرام ہے کہ وہ انصاف سے تجاوز کرے اور امتیازی سلوک کا شکار ہو۔ امتیازی سلوک اور عدم مساوات اسلام کے خلاف ہے۔ انصاف، برابری، اور تحریر و تقریر کی آزادی کو یقینی بنانا دین اسلام کی تاکیدات میں سے ہے۔

“تعمیری تنقید” کا خیرمقدم کریں اور ناقدین کو طلب اور گرفتار نہ کریں/ ان لوگوں کے خلاف جو مختلف مسائل پر احتجاج کرتے ہیں «محارب» کا فتویٰ نہ لگائیں
زاہدان کے مرکزی خطیب اہل سنت نے کہا: جس معاشرے میں تعمیری تنقید نہ ہو وہ معاشرہ بدعنوانی کی طرف جاتا ہے اور صحیح راستے سے بھٹک جاتا ہے۔ حکمرانوں اور عہدیداروں کو چاہیے کہ وہ ناقدین اور معاشرے کے خیر خواہوں، خصوصاً ماہرین تعلیم، علما اور دانشوروں کا خیر مقدم کریں۔ علما، ماہرین تعلیم، بزرگوں اور بااثر شخصیات کو بھی چاہیے کہ وہ حق بات کہیں اور اصلاح کی فکر کریں۔
انہوں نے عہدیداروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: خیر خواہوں اور ماہرین کی بات سنیں اور ان سے مشورہ کریں۔ لوگوں کو بولنے دیں۔ ناقدین کو طلب اور گرفتار نہ کریں۔
مرکزی خطیب اہل سنت زاہدان نے مزید کہا: ان لوگوں کے حق میں جنہوں نے ملک کے معاشی اور دیگر مسائل پر احتجاج کیا ہے، “محارب” کا حکم نہ لگائیں؛ یہ درست کام نہیں ہے۔ “محاربہ” جس کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے، اس کی ایک خاص تعریف ہے، اور “محاربہ” کی بہترین تعریف وہی ہے جو رسول اللہ ﷺ، حضرت علی اور خلفائے راشدین نے قرآن کی آیت سے سمجھی ہے۔

ماضی کی پالیسیاں کارگر ثابت نہیں ہوئیں؛ “نئی پالیسیاں اور طریقہ کار” اپنائیں/ موجودہ حالات میں عہدیداروں کا سب سے اہم فرض ایرانی عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانا ہے
مولانا عبدالحمید نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے عوام اور ملک کی معاشی مشکلات کی طرف اشارہ کیا اور کہا: ملک میں معاشی مشکلات عروج پر ہیں۔ پیسہ اور معیشت ابتری اور عدم استحکام کا شکار ہے، اور اس ابتری کی وجہ سیاسی عدم استحکام ہے۔
انہوں نے مزید کہا: اگر ملک میں سیاسی استحکام، انصاف اور مساوات ہو، اور ملک کی پالیسیاں درست سمت میں ہوں، تو معیشت سمیت تمام مسائل مستحکم ہو جائیں گے اور ملک کو کسی بھی شعبے میں عدم توازن کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
مرکزی خطیب اہل سنت زاہدان نے تاکید کی: تجربے نے ثابت کر دیا ہے کہ ماضی کی پالیسیاں کارگر ثابت نہیں ہوئیں۔ ان پالیسیوں اور قوانین کو چھوڑ دیں جو کارگر ثابت نہیں ہوئے، اور حالات کے مطابق نئی پالیسیاں اور طریقہ کار اپنائیں تاکہ عوام کی رضامندی حاصل کی جا سکے۔ موجودہ حالات میں ملک کے عہدیداروں کا سب سے اہم فرض اندرونی مسائل پر توجہ دینا اور ایرانی عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانا ہے۔

baloch

Recent Posts

اقبال اور فلسطین: ہے خاک فلسطین پہ یہودی کا اگر حق

دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…

7 days ago

معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار

معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار

7 days ago

غسل کعبہ کی روح پرور تقریب آج ہو گی

غسل کعبہ کی روح پرور تقریب آج ہو گی

7 days ago

اسرائیل کا غزہ میں بےگھر افراد پر حملہ، ماں اور بچوں سمیت 6 افراد شہید

غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں بے گھر افراد کے خیموں کو نشانہ بنایا گیا…

7 days ago

“کتاب و حکمت کی تعلیم” اور “معاشرے کی تزکیہ و اصلاح” رسولِ اکرم ﷺ کی بعثت کے بنیادی مقاصد میں شامل ہیں

قومی مفادات اور ایرانی عوام کی زندگی کو کسی دوسرے ملک یا قوم کے مفادات…

1 week ago

دارالعلوم زاہدان میں سیرۂ نبوی ﷺ کا ورکشاپ منعقد ہوا

سنی آن لائن (زاہدان): «سیرۂ نبوی ﷺ» کا ورکشاپ 20جون 2026 سے 25 جون تک…

1 week ago