بھارتی ریاست کرناٹک کے شہر بنگلورو میں حکومت نے 200 سے زائد گھروں کو مسمار کردیا، جس کے باعث سینکڑوں مسلمان خاندان بے گھر ہوگئے۔
ریاستی حکومت کی جانب سے یہ انہدامی کارروائی رواں ہفتے کے آغاز میں 22 دسمبر کی صبح تقریباً 4 بجے فقیر کالونی اوروسیم لے آؤٹ (کوگیلو گاؤں) میں کی گئی، جس سے لگ بھگ 400 خاندان بے گھر ہو گئے۔
حکومت کی جانب سے یہ ظالمانہ اقدام ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب بنگلورو کو حالیہ برسوں کی شدید سردی کا سامنا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بنگلورو سالڈ ویسٹ مینجمنٹ لمیٹڈ کی جانب سے کی گئی کارروائی کے دوران ہیوی مشینری اور سیکڑوں پولیس اہلکار بھی موجود تھے۔
دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ مکانات ایک جھیل کے قریب، اردو گورنمنٹ اسکول سے متصل سرکاری زمین پر غیر قانونی طور پر تعمیر کیے گئے تھے۔
تاہم متاثرہ مکینوں کا کہنا ہے کہ انہیں کوئی پیشگی نوٹس نہیں دیا گیا اور پولیس نے زبردستی بے دخل کر دیا، جس کے باعث سیکڑوں افراد شدید سردی میں سڑکوں اور عارضی پناہ گاہوں میں رات گزارنے پر مجبور ہو گئے۔
مقامی میڈیا کے مطابق بعض رہائشیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ گزشتہ 25 برس سے اس علاقے میں مقیم تھے اور ان کے پاس آدھار کارڈ اور ووٹر آئی ڈی جیسی دستاویزات بھی موجود ہیں۔ بے دخل کیے گئے افراد میں اکثریت مہاجر مزدوروں کی ہے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…