بھارتی حکومت نے ایک مرتبہ پھر تنگ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسلامک اسکالر اور مبلغ ذاکر نائیک کی تنظیم “اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن” پر 5 سال کی پابندی لگا دی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق کابینہ کی کمیٹی برائے سیکیورٹی نے ذاکر نائیک کی متنازع تقاریر کے بعد ان کی غیرسرکاری تنظیم “اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن” پر 5 سال کی پابندی لگا دی جس کے بعد انہیں کام کرنے کی اجازت نہیں ہوگی جب کہ حکومت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی ہدایات جاری کی ہیں کہ کابینہ کے فیصلے پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے اور اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن سے وابستہ لوگوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے۔
مبلغ ذاکر نائیک پر پولیس کی جانب سے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے الزامات پرپہلے ہی کئی مقدمات بنائے گئے ہیں جب کہ کابینہ کمیٹی برائے سیکیورٹی نے بھی ذاکر نائیک کی تقاریر کو بنیاد بنا کر ان کی تنظیم پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا۔
واضح رہے کہ اسلامک اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک ان دنوں سعودی عرب میں موجود ہیں۔
ایکسپریس نیوز
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام