بھارتی حکومت نے ایک مرتبہ پھر تنگ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسلامک اسکالر اور مبلغ ذاکر نائیک کی تنظیم “اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن” پر 5 سال کی پابندی لگا دی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق کابینہ کی کمیٹی برائے سیکیورٹی نے ذاکر نائیک کی متنازع تقاریر کے بعد ان کی غیرسرکاری تنظیم “اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن” پر 5 سال کی پابندی لگا دی جس کے بعد انہیں کام کرنے کی اجازت نہیں ہوگی جب کہ حکومت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی ہدایات جاری کی ہیں کہ کابینہ کے فیصلے پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے اور اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن سے وابستہ لوگوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے۔
مبلغ ذاکر نائیک پر پولیس کی جانب سے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے الزامات پرپہلے ہی کئی مقدمات بنائے گئے ہیں جب کہ کابینہ کمیٹی برائے سیکیورٹی نے بھی ذاکر نائیک کی تقاریر کو بنیاد بنا کر ان کی تنظیم پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا۔
واضح رہے کہ اسلامک اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک ان دنوں سعودی عرب میں موجود ہیں۔
ایکسپریس نیوز
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید