اعلامیہ جمعیۃ علماء ہند

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔ اما بعد
(۱) مسلمانوں کے مختلف گروہوں میں باہمی مصالحت اور رواداری قائم کرنے کے لیے ہم تمام علماء اسلام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے اپنے مذہبی خیالات پر قائم رہتے ہوئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر مسلمانوں کی مشترکہ ضروریات پر غور کریںاور مشترک مفادات کو حاصل کرنے میں متفق ہو کر جان توڑ کوشش کر یں۔ آج ہی کی طرح ماضی میں جب ملت ٹکڑے ہوکر بکھرنے لگی تو شیخ الاسلام حضرت مولانا سیدحسین احمد مدنی رحمۃاللہ علیہ،شیخ الحدیث وصدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند نے قوم کو اتحاد کی دعوت دیتے ہوئے آواز دی تھی کہ’’ تمام مسلمانوں کا عموماً اور علماء اسلام کا خصوصاً اہم فریضہ ہے کہ وہ جاگیں اور تحفظ وبقاء کی صورت عمل میں لائیں۔ اختلافات کو مٹائیں اور اجتماعی قوتوں کو بڑھاکر صحیح نظام پر گامزن رہیں‘‘۔
اس لئے ہم ملت اسلامیہ کے تمام فرقوں، مسلکوں، جماعتوں، تنظیموں اور ہرطرح کی چھوٹی بڑی اکائیوں اور برادریوں کو دعوت دیتے ہیں کہ ہم سب مل کر مشترکہ مقاصد کے لیے متحدہ جدوجہد کریں، ملک وملت کی فلاح کے لئے یہ تقاضا ہے اس کے بغیر کا میا بی دشوار ہے۔
(۲) دور حاضر میں مذہب اسلام کے بارے میں دہشت گردی،شدت پسندی اورخواتین کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کے سلسلہ میںغلط فہمیاں پھیلائی جارہی ہیں ، ان کا اثر نہ صرف انصاف پسند غیر جانب دار طبقے پر ہو تاہے ، بلکہ ہماری نئی نسل بھی ان سے متاثر ہورہی ہے۔لہذادین و ایمان کے تحفظ کے لیے ان غلط فہمیوں کا ازالہ ہماری اولین ترجیح ہو نی چاہیے۔
(۳) اسلام دین رحمت ہے اور مسلمانوں کا وجودا ورمعاشرہ میں ان کے اسلامی کردار کی افادیت صرف مسلمانوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ مسلم و غیر مسلم سب کو اس کا فائدہ پہنچتا ہے ، اس پہلو کو دعوتی عمل کا بنیادی عنصر بنانے کی کوشش ہونی چاہیے ۔اور دعوت کا طریقہ ٔ کار ایسا ہونا چاہیے جس سے اسلام کاپیغام رحمت عام ہو، اور حتی الامکان مناظرانہ طریقہ سے اجتناب کیا جائے ، اسلامی دعوت اور عملی کردار میں مطابقت پیدا کی جائے ۔ واضح ہو کہ اسلام کا بنیاد ی مقصد محض اقتدار پر قبضہ حاصل کرنا نہیں بلکہ عدل وانصاف کا قیام اور فساد کا مٹانا ہی اسلام کا اولین مقصد ہے ۔
(۴) جنگ وجدال سے احتراز اور پرامن ذرائع سے تنازعات کا حل تلاش کرنے کے لیے پیش قدمی اسلام کے عالمی پیغام امن کا بنیادی عنصر ہے انسانیت کو خونریزی اور تباہی سے بچانا اور امن وامان قائم کرنا اصل جہاد ہے ۔ بلا شبہ دہشت گردی عالمی امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے ، جس کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ معصوم جانیں ضائع ہو تی ہیں، بلکہ کمزوروں پر حملہ کرنے اور انھیں نشانہ بنانے کے لیے نام نہاد سامراجی طاقتوں کے لیے یہ ایک بڑا بہانہ ہے ۔
دوسری طرف بے قصور لوگوں کو مجرم ٹھہرانے کے لیے دہشت گردی کا الزام مروج طریقہ کار بنتا جارہا ہے ۔اس طرح ’’دہشت گردی ‘‘ ظالموں کے ہاتھ سہ آتشہ ہتھیار بن گیاہے ،اس لئے ہماری ذمہ داری ہے کہ بے قصور جانوں کو ضائع ہونے سے بچانے ، کمزور ممالک کے تحفظ و دفاع اور دہشت گردی کے جھوٹے الزام میں گرفتار بے قصور اسیروں کی رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔
اس سلسلے میں علماء کرام اور دانشوران قوم وملک کا یہ اجلاس دارالعلوم دیوبند کے ذریعہ جاری کردہ دہشت گردی کے خلاف فتوی کی ایک بار پھر توثیق کرتا ہے کہ’’ بے شک فتنہ وفساد ، بدامنی اور خونریزی اور بے قصوروں کو قتل و غارت گری کا نشانہ بنانا بدترین انسانیت سوز جرم ہے ۔قرآن اور اسلام کی نظر میں ایک قتل ناحق پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے ۔اسلام کی رو سے انسانی حقوق کی رعایت و حفاظت ہمارے اوپر لازم ہے ‘‘با لخصوص علماء کرام کو چاہیے کہ وہ دہشت گردوں کو معاشرے سے الگ تھلگ کرنے کے ساتھ عوام اور حکمرانوںکو ان اسباب ومحرکات سے دور رہنے کے بارے میں بیداری پیدا کریں جو دہشت گردی کو فروغ دینے میں مدد گار بنتے ہیں ۔
(۵) عدل ومساوات کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ ہم دلت او رکمزور طبقات کے ساتھ یک جہتی اور اتحاد قائم کریں اور مشترکہ طور پر سماجی انصاف کے لیے جدوجہد کریں ۔
(۶) جرائم اور اخلاق سوزرسم ورواج سے پاک معاشرہ کی تشکیل ؛خاص کر شراب نوشی،منشیات، عیش پرستی، فحاشی، عریانیت اور جنین کشی کے خلاف تحریک چلانے کے لیے ہم تمام مذاہب کے رہنماؤں اور مصلحانہ تنظیموں کو اشتراک اور تعاون کی دعوت دیتے ہیں۔اسی ضمن جمعیۃ علماء ہند یہ اعلان کرتی ہے کہ ۲۰۱۷ء کو نشہ اور فحاشی مخالف مہم کے طورپرمنائے گی۔
(۷) مسلم پرسنل لاء میں مداخلت اور یونیفارم سول کوڈ کے حوالے سے ہم اس موقع پر حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ؒ کے عہد کو دوہراتے ہیں کہ
’’ مسلمان ہندستان میں پوری مذہبی آزادی اور پوری تہذیب و ثقافت کے ساتھ ز ندہ رہیں گے اور کسی غیر کی غلامی قبول کرنے سے وہ عزت کے ساتھ مرجانے کو ترجیح دیں گے ‘‘
لہذا ہم ہندستان میں ا پنی مذہبی انفرادیت اور نجی معاملات میں قرآن وسنت پر عمل کی آزادی اپنا دستوری حق سمجھتے ہیں اور تمام مسلمان بلا اختلاف اس آزادی کی بقاء کو لازمی تصور کرتے ہیں ، اس موقع پر فدائے ملت حضرت مولاناسید اسعد مدنی ؒ کا پیغام ہمارے لیے بہترین راہ عمل تجویز کرتا ہے ، آپ نے فرمایا تھا کہ
’’ ہم اس ملک کے آزادی شہری ہیں اور اس حق سے کسی قیمت دست بردار ہو نے کے لیے تیار نہیں ہیں ، اگر ہمارے اسلامی اصول کے خلاف یکسا ںسول کوڈ مرتب کیا جاتاہے یا ہمارے پرسنل لاء میں ترمیمات کی جاتی ہیں تو اس صورت میں ہماری حیثیت اس ملک میں آزاد شہری ہونے کی محفوظ نہیں رہے گی ‘‘۔
(۸) اسی کے ساتھ ہم مسلمانوں سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ شریعت کے تحفظ کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ ہم خوداس پر عمل پیرا ہوں، صرف غیروں سے احتجاج اور شکوہ کافی نہیں ، اگر ہمارا یہ دعوی ہے کہ شریعت اسلامی میں عورتو ںاو ربچوں کو سب سے زیادہ انصاف دیا گیا ہے ، تو ہمیںاس دعوی کو اپنے عمل سے ثابت کرنا ہوگا ۔ نکاح اور طلاق کے سلسلے میں ہمارے اندر ا یسی رسومات داخل ہو گئیں ہیں جو شریعت اسلامی کے احکام کے بالکل خلاف ہیں ۔ ہمیں ان رسومات کے خلاف جہاد کرنا ہوگا اور عورتوں کو اسلام کی روسے نہ صرف مساویانہ بلکہ ان کی عزت و حرمت کے مطابق معاملہ کر نے کے لیے تحریک چلانی ہو گی ۔ اس کے بغیر غیروںکو مداخلت سے نہیں روکا جاسکتا ۔
ہمیں چاہیے کہ نکاح نامہ میں شریعت کی روشنی میں ایسی شرائط شامل کریں جو نز اع کو دور کرنے کے لیے محکمہ شرعیہ کی طرف رجوع میں معاون بنیں اورلوگوں کو عدالتوں کے چکر کاٹنے سے بچایا جا سکے ۔
اسی کے ساتھ یہ اجلاس ایک مجلس کی تین طلاق کے عمل کی سخت مذمت کرتا ہے اور مسلمانوں کے ہر طبقہ سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اس غلط طریقۂ طلاق کے سد باب کی ہر ممکن کوشش کریں۔ اللہ تعالی ہم سب کوپوری طرح شریعت کی تابعداری کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔
وصلی اللہ تعالی علی خیر خلقہ محمدواٰ لہ واصحابہ اجمعین

(بصیرت نیوزسروس)

baloch

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago