آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اور بھارت کے نامور مسلمان سکالر اسد الدین اویسی نے بھارت کی تمام سیاسی جماعتوں کو مسلمانوں اور خود پر لگائے جانے والے الزامات پر مزاکرے کا چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ آزادی کے بعد سے لے کر اب تک ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کی حالت بد سے بدتر ہوتی گئی لیکن کانگریس سمیت کسی جماعت نے مسلمانوں کی حالت زار پر کوئی توجہ نہیں دی، مسلمانوں پر اشتعال انگیزی کا الزام لگانے والے لیڈروں کی باتوں سے پھول نہیں جھڑتے۔
بھارتی نجی چینل کے مطابق اسد الدین اویسی نے پارٹی کارکنوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایس پی، بی ایس پی، کانگریس اور بی جے پی کے لیڈر مجھ پر اشتعال انگیز اور فرقہ وارانہ تقریروں کے ذریعے مسلمانوں کو مشتعل کرنے کا الزام لگاتے ہیں، لیکن جو ان کے رہنما تقریر کرتے ہیں کیا اس میں پھول برستے ہیں؟ ہم تو لوگوں کو اپنے 70 سال سے دبے جذبات کا بتاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئین نے ہمیں اپنے حق کے لئے لڑنے کا حق دیا ہے، ہم ساری پارٹیوں کو کھلا چیلنج دیتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے حالات اور ہم پر لگائے جانے والے الزامات پر ہمارے جلسے میں آ کر بحث کریں یا ہم ان کے جلسے میں آ کر بحث کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی آزادی میں مسلمانوں کا اہم اور کلیدی تعاون رہا ہے، مسلمان علماء نے انگریزوں کے خلاف جہاد کے فتوے دیے تھے لیکن مورخ ان باتوں کا ذکر نہیں کرتے، اس قوم نے سب پر اعتماد کیا لیکن اسے پسماندگی کے سوا کچھ نہیں ملا۔
اردو ٹائمز
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید