خطیب اہل سنت زاہدان نے بارہ اگست دوہزار سولہ کے خطبہ جمعہ میں اسلامی تعلیمات کی رو سے والدین پر اولاد کے بعض حقوق پر روشنی ڈالتے ہوئے ’درست تربیت‘ کو والدین کا بہترین تحفہ اپنی اولاد کے لیے قرار دیا۔
زاہدان میں ہزاروں فرزندان توحید سے خطاب کرتے ہوئے شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے کہا: اسلام ایک جامع و کامل دین ہے۔ دیگر ادیان کے برعکس اسلام انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے لیے تعلیمات کا حامل ہے۔ اس دین میں اللہ تعالی کے حقوق کے علاوہ، لوگوں کے حقوق کے حوالے سے اور معاملات و معاشرات کے عنوان سے احکام و مضامین موجود ہیں۔
انہوں نے مزیدکہا: اسلام میں ایمان، عقائد اور عبادات کے علاوہ جو روحانی زندگی کی تقویت کے لیے ہیں، انسانوں کے حقوق کو بڑے پیمانے پر بھی بیان کیا جاچکاہے۔ اسلامی تعلیمات کی رو سے ایک مسلمان بحیث انسان تمام انسانوں کے حقوق کا خیال رکھے اور مسلمان کی حیثیت سے تمام مسلمانوں کے حقوق کی پاسداری کے بھی ذمہ دار ہے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: اسلامی شریعت میں ماں باپ اور اولاد ایک دوسرے کے حوالے سے کچھ ذمہ داریاں کندھے پر رکھتے ہیں، انہیں ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔ حدیث شریف میں آیاہے جب کوئی بچہ جنم لیتاہے اس کے ایک کان میں اذان دی جائے اور دوسرے کان میں اقامت پڑھی جائے تاکہ سب سے پہلے اللہ تعالی کی بڑائی اس کے کان میں پڑجائے اور وہ شیطانی وسوسوں سے حفاظت میں رہے۔
انہوں نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا: قرآن وسنت کی دیگر تجاویز میں یہ بھی آیاہے کہ بچوں کے لیے اچھے اور مناسب نام اختیار کیے جائیں۔ پیدائش کے سات دن بعد بطور عقیقہ کوئی جانور ذبح کرایا جائے۔ اچھے نام پیغمبروں، صحابہ کرام اور دیگر بزرگان دین کے ناموں سے چنا جائے، علاقائی ناموں کے معنی اگر اچھے ہوں ان سے نام لینا بھی صحیح ہے۔ اولاد بچے ہوں یا بچیاں سب اللہ تعالی کی دی ہوئی ہیں اور ان کی پیدائش پر خوشی کا اظہار کرنا چاہیے۔
بچوں سے نیک برتاو کو اسلام کی تعلیمات میں شمار کرتے ہوئے شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے کہا: اپنی اولاد کو ہرگز ذلیل نہ کریں اور ان سے اچھا معاملہ رکھیں۔ بیٹے اور بیٹی سے یکساں طورپر پیار کریں۔ اگر ایک کو تحفہ دیا گیا تو دوسرے کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ انہیں آداب و اخلاق سکھائیں اور بہترین طریقے سے ان کی تربیت کریں۔ درست تربیت اولاد کے لیے ماں باپ کی طرف سے سب سے اچھا تحفہ ہے۔ دنیا کی زندگی میں بھی بچوں کو تعلیم دے کر انہیں رہنے سہنے کا صحیح طریقہ سکھانا چاہیے۔
انہوں نے مزیدکہا: جب بچے بالغ ہوں اور بچیوں کے لیے مناسب رشتہ آئے، کوشش کریں ان کی شادی کرائیں۔ بلوغت کے بعد اگر بچے گناہ کا ارتکاب کریں، باپ بھی اس کے گناہ میں شریک ہے۔ آج کے حالات میں جب انٹرنیٹ اور سیٹلائیٹ ٹی وی چینلز معاشرے میں فحاشی و عریانی پھیلانے میںمصروف ہیں، گناہوں سے اولاد کی حفاظت کا سب سے اچھا طریقہ شادی کا بند و بست ہے۔ البتہ بچیوںکی شادی چھوٹی عمر میں نہ کرائیں۔ آج کی مشین والی زندگی میں لوگوں کی قوت اور نشو ونما کمزور ہے۔ ان کی شادی میں جلدبازی کرنے سے کچھ مشکلات و مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔
مولانا عبدالحمید نے شادی کی تقریبات سادگی سے منانے پر زور دیتے ہوئے کہا: شادی کی تقریبات میں اسلامی تعلیمات اور حدود کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ آج کی تقریبات میں جو مسائل پیدا ہوچکے ہیں ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ عصر جاہلیت اور مغربی ثقافت کی پیداوار ہیں۔ مہر اور جہیز سمیت ولیمہ میں اپنی استطاعت کو مدنظر رکھا جائے۔
انہوں نے کہا: اجتماعی شادی کی تقریبات کا سلسلہ بہت اچھا ہے اور اس کی وجہ سے اخراجات میں بڑی حد تک کمی آتی ہے۔ بہر حال شادی کی تقریبات میں ہر قسم کے گناہوں، ناچ گانے و غیرہ سے دوری کرنی چاہیے جو حرام کام ہیں۔ حرام پر پیسہ لگانا حرام کام ہے اور قیامت کو اس پر گرفت ہوگی۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…