الیکشن کمیشن کے سربراہ نے پیر کو کابل میں منعقدہ پریس کانفرنس میں نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اشرف غنی کے حاصل کردہ کل ووٹوں کی تعداد 48 لاکھ 85 ہزار 8 سو 88 رہی جبکہ ان کے حریف عبداللہ عبداللہ نے 34 لاکھ 61 ہزار 6 سو 39 ووٹ حاصل کیے۔
ابتدائی نتائج کے مطابق اشرف غنی نے ڈالے گئے کل ووٹوں میں سے 56.4 فیصد ووٹ لیے جبکہ سابق وزیرِ خارجہ عبداللہ عبداللہ 43 فیصد ووٹ لے سکے۔
خیال رہے کہ کامیاب امیدوار کے لیے 50 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کرنا ضروری تھا۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ان نتائج کو حتمی تصور نہ کیا جائے کیونکہ ووٹنگ میں مسائل کی وجہ سے نتیجہ تبدیل ہو سکتا ہے۔
افغان صدارتی انتخاب کا پہلا مرحلہ اپریل میں منعقد ہوا تھا جس میں ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے برتری تو حاصل کی تھی لیکن مطلوبہ تعداد میں ووٹ نہیں لے سکے تھے۔
اس پر انتخاب کے دوسرے مرحلہ کا انعقاد 14 جون کو ہوا جس میں عبداللہ عبداللہ اور ان کے قریب ترین حریف اشرف غنی مدِمقابل تھے۔
دونوں امیدواروں نے ووٹنگ میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے اور عبداللہ عبداللہ نے چند روز قبل بی بی سی کو بتایا تھا کہ وہ اپنے مخالف امیدوار کی جیت کا احترام کریں گے تاہم یہ صرف اسی صورت میں ہوگا اگر یہ ثابت کر دیا جائے کہ یہ انتخاب شفاف ہے۔
انھوں نے کہا کہ وہ 14 جون کو اشرف غنی کے ساتھ ہونے والے انتخابی مقابلے کے جائز نتائج کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔
اس سے دو ہفتے قبل انھوں نے مطالبہ کیا تھا کہ گنتی فوراً روک دی جائےاور وہ بڑے پیمانے پر ہونے والے دھاندلی کے الزامات کے تحقیقات تک کسی بھی نتیجے کو قبول نہیں کریں گے۔
بی بی سی اردو
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…