عراقی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے سوموار کو جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ”فوج کی چھٹی ڈویژن کے کمانڈر میجر جنرل نجم عبداللہ علی بغداد کا دفاع کرتے ہوئے ”دہشت گردوں” کے خلاف جنگ میں شہید ہوگئے ہیں”۔
اس بیان میں مزید تفصیل نہیں بتائی گئی۔البتہ عراقی فوج کے ترجمان لیفیٹننٹ جنرل قاسم عطا نے بتایا ہے کہ جنرل عبداللہ علی بغداد کے مغرب میں متحارب جنگجوؤں کی گولہ باری میں ہلاک ہوئے ہیں۔
فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق عراقی جنرل دارالحکومت کے مغرب میں واقع ابوغریب کے علاقے میں ہلاک ہوئے ہیں جہاں عراقی سکیورٹی فورسز اور مغربی شہر فلوجہ پر قبضہ کرنے والے جنگجوؤں کے درمیان گذشتہ ایک ماہ سے لڑائی جاری ہے۔
واضح رہے کہ عراقی فوج کو جنوری میں دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے جنگجوؤں اور مقامی سنی قبائل کے مقابلے میں فلوجہ اور صوبہ الانبار کے دارالحکومت رمادی میں شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا۔اس کے بعد سے عراقی فوج ان دونوں شہروں کا کنٹرول واپس لینے میں ناکام رہی ہے۔اس دوران جون میں داعش کے جنگجوؤں نے عراق کے پانچ شمالی اور شمال مغربی صوبوں کے بڑے علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے اور ان کے ساتھ لڑائی میں عراقی فوج کے متعدد اعلیٰ فوجی افسر مارے جاچکے ہیں۔
درایں اثناء بغداد کے شمال میں ایک چیک پوائںٹ پر خودکش بم حملے کے نتیجے میں چار پولیس اہلکاروں سمیت سات افراد ہلاک اور سترہ زخمی ہو گئے ہیں۔پولیس حکام کے مطابق کاظمیہ کے علاقے میں خودکش بمبار نے اپنی بارود سے بھری کار چیک پوائنٹ پر دھماکے سے اڑادی تھی۔کاظمیہ میں اہل تشیع کی اکثریت ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…