افغانستان کے بلوچ کمیونٹی کے مختلف طبقات کے نمائندوں نے 3ستمبر کو کابل میں انٹرنیشنل کانٹی نینٹل ہوٹل کے کانفرنس ہال میں ایک بڑے اجتماع میں طالبان کی حمایت کا اعلان کیا۔
اس اجلاس میں بدخشان، ہرات، ہلمند، فراہ، ہرات، نیمروز اور افغانستان کے دیگر صوبوں میں رہنے والے بلوچوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس سے دوحہ مذاکراتی ٹیم کے ممبران مولانا شہاب الدین دلاور اور مولانا عبدالرشید بلوچ نے اظہار خیال کیا۔
علماء، یونیورسٹی کے پروفیسرز اور ممتاز افغان بلوچ سیاسی و سماجی شخصیات نے افغانستان میں اسلامی نظام کی حمایت کا اظہار کیا۔
بلوچوں کی طرف سے بات کرنے والے رہنماؤں نے اپنی قومی اور اسلامی شناخت پر زور دیا اور امارات اسلامی کے نظام میں منصوبہ بندی اور خدمت کے لیے اپنی تیاری کا اعلان کیا۔ اس اجلاس کے تسلسل میں، طالبان کونسل کی جانب سے مولانا شہاب الدین دلاور نے طالبان کے اہداف اور پالیسیوں کی وضاحت کی۔
انہوں نے زور دیا کہ امارات اسلامی پوری افغانستان کی ہے اور تمام نسلی گروہ اس میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
اجلاس کے اختتام پر طالبان رہنماء مولانا عبدالرشید بلوچ نے بلوچی میں خطاب کیا اور پارلیمنٹ کے شرکاء کو خوش آمدید کیا۔
سیشن کا اختتام بلوچوں کی حمایت پر رومی محی الدین بلوچ نے دعا کی۔
خیال رہے کہ افغانستان میں بلوچ آبادی کی تعداد کے بارے میں صحیح اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔ لیکن وہ زیادہ تر صوبوں میں موجود ہیں اور افغانستان میں دیگر نسلی گروہوں کے ساتھ برادرانہ زندگی گزار رہے ہیں۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید