جمعرات کو صوبہ تخار میں حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب افغان عوام فارسی سال یا نوروز کا پہلا دن منا رہے ہیں۔
پولیس کے ترجمان عبدل خلیل اسیر نے بتایا کہ انتظامی افسر اپنے گارڈ کے ہمراہ گاڑی میں ضلع اشکمش میں واقع اپنے گھر جارہے تھے کہ پل پر دھماکا ہو گیا۔
انہوں نے بتایا کہ عبدالمنان حکیمی صبح گھر سے اس دن کو منانے کی تیاریاں کرنے کے لیے نکلے تھے۔
طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے صحافیوں کو ای میل کر کے اس حملے کی ذمے داری قبول کی ہے۔
طالبان کی جانب سے افغان حکام پر اس سے قبل بھی متعدد حملے کیے جاچکے ہیں جن کا کہنا ہے کہ یہ غیر ملکی افواج کی معاونت کر رہے ہیں اور اسی وجہ سے ہم ان کو عام شہری نہیں مانتے۔
سال 2012 میں افغان حکومت سے منسلک متعدد آفیشلز کا قتل کیا گیا تھا۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار