جمعرات کو صوبہ تخار میں حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب افغان عوام فارسی سال یا نوروز کا پہلا دن منا رہے ہیں۔
پولیس کے ترجمان عبدل خلیل اسیر نے بتایا کہ انتظامی افسر اپنے گارڈ کے ہمراہ گاڑی میں ضلع اشکمش میں واقع اپنے گھر جارہے تھے کہ پل پر دھماکا ہو گیا۔
انہوں نے بتایا کہ عبدالمنان حکیمی صبح گھر سے اس دن کو منانے کی تیاریاں کرنے کے لیے نکلے تھے۔
طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے صحافیوں کو ای میل کر کے اس حملے کی ذمے داری قبول کی ہے۔
طالبان کی جانب سے افغان حکام پر اس سے قبل بھی متعدد حملے کیے جاچکے ہیں جن کا کہنا ہے کہ یہ غیر ملکی افواج کی معاونت کر رہے ہیں اور اسی وجہ سے ہم ان کو عام شہری نہیں مانتے۔
سال 2012 میں افغان حکومت سے منسلک متعدد آفیشلز کا قتل کیا گیا تھا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…