جمعرات کو صوبہ تخار میں حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب افغان عوام فارسی سال یا نوروز کا پہلا دن منا رہے ہیں۔
پولیس کے ترجمان عبدل خلیل اسیر نے بتایا کہ انتظامی افسر اپنے گارڈ کے ہمراہ گاڑی میں ضلع اشکمش میں واقع اپنے گھر جارہے تھے کہ پل پر دھماکا ہو گیا۔
انہوں نے بتایا کہ عبدالمنان حکیمی صبح گھر سے اس دن کو منانے کی تیاریاں کرنے کے لیے نکلے تھے۔
طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے صحافیوں کو ای میل کر کے اس حملے کی ذمے داری قبول کی ہے۔
طالبان کی جانب سے افغان حکام پر اس سے قبل بھی متعدد حملے کیے جاچکے ہیں جن کا کہنا ہے کہ یہ غیر ملکی افواج کی معاونت کر رہے ہیں اور اسی وجہ سے ہم ان کو عام شہری نہیں مانتے۔
سال 2012 میں افغان حکومت سے منسلک متعدد آفیشلز کا قتل کیا گیا تھا۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…