جمعرات کو صوبہ تخار میں حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب افغان عوام فارسی سال یا نوروز کا پہلا دن منا رہے ہیں۔
پولیس کے ترجمان عبدل خلیل اسیر نے بتایا کہ انتظامی افسر اپنے گارڈ کے ہمراہ گاڑی میں ضلع اشکمش میں واقع اپنے گھر جارہے تھے کہ پل پر دھماکا ہو گیا۔
انہوں نے بتایا کہ عبدالمنان حکیمی صبح گھر سے اس دن کو منانے کی تیاریاں کرنے کے لیے نکلے تھے۔
طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے صحافیوں کو ای میل کر کے اس حملے کی ذمے داری قبول کی ہے۔
طالبان کی جانب سے افغان حکام پر اس سے قبل بھی متعدد حملے کیے جاچکے ہیں جن کا کہنا ہے کہ یہ غیر ملکی افواج کی معاونت کر رہے ہیں اور اسی وجہ سے ہم ان کو عام شہری نہیں مانتے۔
سال 2012 میں افغان حکومت سے منسلک متعدد آفیشلز کا قتل کیا گیا تھا۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام