اس اعلان سے ایک طویل عرصے سے جاری مسلح جدوجہد ختم ہوجائے گی۔
انہوں نے ترک حکومت پر بھی زوردیا ہے کہ وہ امن عمل کو مستقل بنانے کے لیے اپنے حصے کا کردار ادا کرے اور کرد باغیوں کے ہتھیار ڈالنے اور ترکی سے ان کے محفوظ انخلاء کے لیے اقدامات کرے۔
علیحدگی پسند کرد باغیوں نے 1984ء سے ترک حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھا رکھے ہیں۔
ان کی مسلح بغاوت اور ترکی کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ لڑائی میں45 ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔
DW
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار