اس اعلان سے ایک طویل عرصے سے جاری مسلح جدوجہد ختم ہوجائے گی۔
انہوں نے ترک حکومت پر بھی زوردیا ہے کہ وہ امن عمل کو مستقل بنانے کے لیے اپنے حصے کا کردار ادا کرے اور کرد باغیوں کے ہتھیار ڈالنے اور ترکی سے ان کے محفوظ انخلاء کے لیے اقدامات کرے۔
علیحدگی پسند کرد باغیوں نے 1984ء سے ترک حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھا رکھے ہیں۔
ان کی مسلح بغاوت اور ترکی کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ لڑائی میں45 ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔
DW
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام