اس اعلان سے ایک طویل عرصے سے جاری مسلح جدوجہد ختم ہوجائے گی۔
انہوں نے ترک حکومت پر بھی زوردیا ہے کہ وہ امن عمل کو مستقل بنانے کے لیے اپنے حصے کا کردار ادا کرے اور کرد باغیوں کے ہتھیار ڈالنے اور ترکی سے ان کے محفوظ انخلاء کے لیے اقدامات کرے۔
علیحدگی پسند کرد باغیوں نے 1984ء سے ترک حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھا رکھے ہیں۔
ان کی مسلح بغاوت اور ترکی کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ لڑائی میں45 ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔
DW
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…