چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کراچی بد امنی ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت پولیس نےعدالت کوبتایا کہ 6 اکتوبر2011 کے بعد شہربھر میں 45435 چھاپے مارے گئے جس میں 208 ٹارگٹ کلرزاور268 بھتہ خورگرفتارکئے گئےہیں۔
پولیس نے اس رپورٹ کے ساتھ ان گرفتارسیاسی کارکنوں کی فہرست بھی جمع کرائی جن پرشہرمیں ٹارگٹ کلنگ اوردیگر مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
فہرست میں متحدہ قومی موومنٹ کے81 کارکنوں،سنی تحریک کے 38،عوامی نیشنل پارٹی(اے این پی) کے 13، لیاری گینگ وارکے 17اورکالعدم پیپلزامن کمیٹی کے 6کارکنوں کے نام شامل ہیں۔
حیرت انگیزطورپرپولیس کاکہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 9 کارکن بھی ٹارگٹ کلنگ کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔
پولیس کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی) کے 27 ٹارگٹ کلز بھی گرفتار کئےگئے ہیں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…