فرانس نے ملک سے مبینہ انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے غیر ملکی مبلغین کو ملک بدر کر نے کا فیصلہ کیا ہے.
فرانس کے وزیر داخلہ مینوئل ویلز نے برسلز کانفرنس کے دوران بتایا کہ فرانس نے “شدت پسندوں” کے خلاف کاروائی کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جس کے تحت آنے والے دنوں میں متعدد غیر ملکی “شدت پسند” علما کو ملک بدر کردیا جائے گا.
انہوں نے کہا ہے کہ فرانس سے ایسے تمام غیر ملکی مذہبی (ان کے بقول) انتہا پسند علما کو نکال دیا جائے گا جو فرانس کے لئے مشکلات پیدا کرتے ہیں اورسیاسی عمل میں مداخلت کرتے ہیں، فرانسیسی وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ اقدام ملک میں “مذہبی انتہا پسندی” کی روک تھام کے لیے اٹھایاجا رہا ہے۔
ایکسپریس نیوز
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید