فرانس نے ملک سے مبینہ انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے غیر ملکی مبلغین کو ملک بدر کر نے کا فیصلہ کیا ہے.
فرانس کے وزیر داخلہ مینوئل ویلز نے برسلز کانفرنس کے دوران بتایا کہ فرانس نے “شدت پسندوں” کے خلاف کاروائی کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جس کے تحت آنے والے دنوں میں متعدد غیر ملکی “شدت پسند” علما کو ملک بدر کردیا جائے گا.
انہوں نے کہا ہے کہ فرانس سے ایسے تمام غیر ملکی مذہبی (ان کے بقول) انتہا پسند علما کو نکال دیا جائے گا جو فرانس کے لئے مشکلات پیدا کرتے ہیں اورسیاسی عمل میں مداخلت کرتے ہیں، فرانسیسی وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ اقدام ملک میں “مذہبی انتہا پسندی” کی روک تھام کے لیے اٹھایاجا رہا ہے۔
ایکسپریس نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…