فرانس نے ملک سے مبینہ انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے غیر ملکی مبلغین کو ملک بدر کر نے کا فیصلہ کیا ہے.
فرانس کے وزیر داخلہ مینوئل ویلز نے برسلز کانفرنس کے دوران بتایا کہ فرانس نے “شدت پسندوں” کے خلاف کاروائی کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جس کے تحت آنے والے دنوں میں متعدد غیر ملکی “شدت پسند” علما کو ملک بدر کردیا جائے گا.
انہوں نے کہا ہے کہ فرانس سے ایسے تمام غیر ملکی مذہبی (ان کے بقول) انتہا پسند علما کو نکال دیا جائے گا جو فرانس کے لئے مشکلات پیدا کرتے ہیں اورسیاسی عمل میں مداخلت کرتے ہیں، فرانسیسی وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ اقدام ملک میں “مذہبی انتہا پسندی” کی روک تھام کے لیے اٹھایاجا رہا ہے۔
ایکسپریس نیوز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان