عراقی حکام کے مطابق خودکش بمبار نے بدھ کو بغداد سے ایک سو پچھہتر کلومیٹر شمال میں واقع قصبے طوزخرماتو میں اہل تشیع کی مسجد سیدالشہداء میں داخل ہوکر اپنی بارود سے بھری جیکٹ کو دھماکے سے اڑا دیا۔اس وقت مسجد میں ایک سیاست دان کے رشتے دار کی نمازجنازہ ادا کی جارہی تھی۔
عراق میں گذشتہ دوہفتے سے بم دھماکوں اور خودکش بم حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور منگل کو دارالحکومت بغداد اور اس کے نواحی علاقوں میں تین بم دھماکوں میں سترہ افراد ہلاک اور پچاس سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔ابھی تک کسی گروپ نے عراق میں ان بم دھماکوں اور خودکش کار بم حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی۔
گذشتہ ہفتے طوزخرماتواور عراق کے دوسرے علاقوں میں متعدد بم دھماکے ہوئے تھے۔ان میں اٹھاسی افراد ہلاک ہوگئے تھے۔عراق میں یہ بم دھماکے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب سنی اکثریتی صوبے الانبار میں وزیراعظم نوری المالکی کے خلاف دسمبر کے آخر سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور مظاہرین وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…