امریکی سی آئی اے کے سربراہ عہدے سے مستعفی

امریکا کے مرکزی خفیہ ادارے (سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی) کے ڈائریکٹر ڈیوڈ ایچ پیٹریاس اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔ انھوں نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں ایک عورت سے شادی سے ماورا ناجائز جنسی تعلقات کا اعتراف کیا ہے۔

جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے امریکی صدر براک اوباما کے انتخاب سے صرف تین روز بعد ذاتی وجوہ کی بنا پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے اور جمعہ کو جاری کردہ بیان میں بتایا ہے کہ صدر نے ان کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔

انھوں نے لکھا کہ ”سینتیس سال سے شادی شدہ ہونے کے باوجود میں نے بلانکاح دوسری عورت سے تعلقات قائم کر لیے اور یہ امر میرے انتہائی کم زور فیصلے کا مظہر ہے۔ ایک خاوند اور سی آئی اے کے سربراہ کی حیثیت میں اس طرح کا کردار بالکل ناقابل قبول ہے۔ اس سہ پہر کو صدر نے مشفقانہ انداز میں میرا استعفیٰ قبول کر لیا ہے”۔

صدر براک اوباما نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے اور اس میں ڈیوڈ پیٹریاس کی امریکا کے لیے غیر معمولی خدمات کو سراہا ہے۔ انھوں نے سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل جے مورل کو ادارے کا قائم مقام ڈائریکٹر مقرر کیا ہے۔ وہ اس سے پہلے بھی گذشتہ سال لیون پینیٹا کے مستعفی ہونے کے بعد سی آئی اے کے مختصر مدت کے لیے قائم مقام سربراہ رہ چکے ہیں۔

امریکا کے نیشنل انٹیلی جنس ڈائریکٹر جیمز آر کلیپر نے ایک بیان میں ڈیوڈ پیٹریاس کے عہدہ چھوڑنے کے فیصلے کو ملک کے لیےنقصان قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ ڈیوڈ پیٹریاس نے جس عورت سے جنسی تعلقات استوار کر رکھے تھے، اس کی شناخت کے حوالے سے کچھ نہیں لکھا لیکن امریکا جیسے ممالک میں کسی بھی خفیہ یا حساس ادارے کے سربراہ کے اس طرح کے تعلقات کو معیوب سمجھتا جاتا ہے کیونکہ اس طرح حساس خفیہ معلومات کے افشاء کا احتمال موجود رہتا ہے۔

یاد رہے کہ صدر براک اوباما نے گذشتہ سال جون میں افغانستان میں امریکی اور نیٹو فوج کے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کو سی آئی اے کا ڈائریکٹر مقرر کیا تھا۔ ان کے پیش رو لیون پینیٹا کو ملک کا وزیر دفاع مقرر کیا گیا تھا اور تب وزیر دفاع رابرٹ گیٹس 30 جون 2011ء کو اپنےعہدے سے سبکدوش ہو گئے تھے۔

رابرٹ گیٹس بھی وزیر دفاع بننے سے قبل سی آئی اے کے ڈائریکٹر رہے تھے۔ انھیں سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے دور میں وزیر دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ کے مستعفی ہونے کے بعد پینٹاگان کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔

جنرل ڈیوڈ پیٹریاس سی آئی اے کے سربراہ مقرر ہونے سے قبل عراق اور افغانستان میں امریکی فوج کے سربراہ رہے تھے اور انھوں نے سینتیس سال تک فوج میں خدمات انجام دی تھیں۔ ان کو جون 2010ء میں عراق کے بعد افغانستان میں امریکی اور نیٹو فوج کے سابق کمانڈر جنرل میک کرسٹل کو برطرف کر کے نیا کمانڈر مقرر کیا گیا تھا۔

واشنگٹن
العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago