مقامی حکام اور سرکاری میڈیا کے مطابق ہیلی کاپٹر کا حادثہ سیرت صوبے میں پیش آیا اور اس کی وجہ خراب موسم تھا۔
سیرت کے گورنر احمد آئدین نے بتایا کہ ہلاک شدگان ترکی کی خصوصی فوج کے ارکان تھے۔ ترک فوج جنوب مشرق کے علاقے میں کرد عسکریت پسندوں کے ساتھ برسرِ پیکار ہے۔
سرکاری ٹیلی ویژن نے بتایا کہ حادثے پہاڑی علاقے میں دھند کی وجہ سے پیش آیا، اور حکام تفصیلات جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔گورنر آیدین نے بتایا کہ اس حادثے میں تیرہ فوجی اور عملے کے چار ارکان مارے گئے ہیں، اور کوئی شخص زندہ نہیں بچ سکا۔
اس علاقے میں کرد باغی سرگرم ہیں، لیکن اس بات کی کوئی علامت نہیں ہے کہ وہ اس حادثے میں کسی طرح ملوث ہو سکتے ہیں۔
کردستان ورکرز پارٹی یا پی کے کے نے حالیہ مہینوں میں ترک فوج کے خلاف حملے تیز کر دیے ہیں، جس کی وجہ سے اس علاقے میں ترک فوج زیادہ فعال ہو گئی ہے۔
بی بی سی اردو
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…