مقامی حکام اور سرکاری میڈیا کے مطابق ہیلی کاپٹر کا حادثہ سیرت صوبے میں پیش آیا اور اس کی وجہ خراب موسم تھا۔
سیرت کے گورنر احمد آئدین نے بتایا کہ ہلاک شدگان ترکی کی خصوصی فوج کے ارکان تھے۔ ترک فوج جنوب مشرق کے علاقے میں کرد عسکریت پسندوں کے ساتھ برسرِ پیکار ہے۔
سرکاری ٹیلی ویژن نے بتایا کہ حادثے پہاڑی علاقے میں دھند کی وجہ سے پیش آیا، اور حکام تفصیلات جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔گورنر آیدین نے بتایا کہ اس حادثے میں تیرہ فوجی اور عملے کے چار ارکان مارے گئے ہیں، اور کوئی شخص زندہ نہیں بچ سکا۔
اس علاقے میں کرد باغی سرگرم ہیں، لیکن اس بات کی کوئی علامت نہیں ہے کہ وہ اس حادثے میں کسی طرح ملوث ہو سکتے ہیں۔
کردستان ورکرز پارٹی یا پی کے کے نے حالیہ مہینوں میں ترک فوج کے خلاف حملے تیز کر دیے ہیں، جس کی وجہ سے اس علاقے میں ترک فوج زیادہ فعال ہو گئی ہے۔
بی بی سی اردو
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…