مقامی حکام اور سرکاری میڈیا کے مطابق ہیلی کاپٹر کا حادثہ سیرت صوبے میں پیش آیا اور اس کی وجہ خراب موسم تھا۔
سیرت کے گورنر احمد آئدین نے بتایا کہ ہلاک شدگان ترکی کی خصوصی فوج کے ارکان تھے۔ ترک فوج جنوب مشرق کے علاقے میں کرد عسکریت پسندوں کے ساتھ برسرِ پیکار ہے۔
سرکاری ٹیلی ویژن نے بتایا کہ حادثے پہاڑی علاقے میں دھند کی وجہ سے پیش آیا، اور حکام تفصیلات جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔گورنر آیدین نے بتایا کہ اس حادثے میں تیرہ فوجی اور عملے کے چار ارکان مارے گئے ہیں، اور کوئی شخص زندہ نہیں بچ سکا۔
اس علاقے میں کرد باغی سرگرم ہیں، لیکن اس بات کی کوئی علامت نہیں ہے کہ وہ اس حادثے میں کسی طرح ملوث ہو سکتے ہیں۔
کردستان ورکرز پارٹی یا پی کے کے نے حالیہ مہینوں میں ترک فوج کے خلاف حملے تیز کر دیے ہیں، جس کی وجہ سے اس علاقے میں ترک فوج زیادہ فعال ہو گئی ہے۔
بی بی سی اردو
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام