مقامی ذرائح نے بتایا کہ سینا کے شمالی علاقے العریش میں دھماکے کے بعد اب تک کسی مصری پارٹی نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ قدرتی گیس کی اسرائیل کو فراہمی کا معاہدہ حسنی مبارک کی حکومت میں ہوا۔ اسی حکومت نے اسرائیل پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ مصر کو گیس کی مناسب قیمت نہیں دے رہا۔
مصر نے نومبر میں اعلان کیا تھا کہ وہ گیس پائپ لائن کی حفاظت کے لیے نئے سرے سے اقدامات اٹھائے گا۔
مصری گیس کی کمپنی گاسکو کے ایک اعلی عہدیدار جو مصر سے اسرائیل اور اردن کو گیس کی فراہمی کے منصوبے کی نگرانی بھی کرتے ہیں اپنے سابقہ بیانات میں کہ چکے ہیں کہ ان دھماکوں سے مصری معیشت کو زبردست نقصان پہنچ رہا ہے۔ اب تک مصر کو ان دھماکوں کے سبب 166 ملین ڈالرز کا خسارہ ہو چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دوسری جانب اس گیس پائپ لائن کو تبدیل کرنے کی اصلاحات پر سو ملین ڈالرز خرچ آچکے ہیں اسی طرح گیس کی انشورنش کے لیے تیس کے بجائے چالیس ملین ڈالرز زیادہ لاگت آ رہی ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…