جمعرات کو جاری کی گئی ایک سرکاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چھ اگست کو مشن پر جانے والے کسی اہلکار کی اس میں کسی قسم کی غلطی سامنے نہیں آئی۔
رپورٹ میں ان قیاس آرائیوں کو مسترد کیا گیا ہے کہ ہیلی کاپٹر طالبان عسکریت پسندوں کی کسی سازش کا نشانہ بنا۔ راکٹ حملے کہ وجہ بیان کرتے ہوئے بتایا گیا کہ دراصل اس علاقے میں تین گھنٹوں سے زائد جاری اتحادی افواج کی فضائی کارروائی کے باعث ’’دشمن انتہائی چوکس تھا‘‘۔
رپورٹ کے مطابق پروں پر راکٹ لگنے کے بعد ہیلی کاپٹر زمین پر گرا اور اس میں آگ بھڑک اٹھی۔
صوبہ وردک کے علاقے وادی تنگی میں پیش آنے والے اس واقعے میں امریکہ کے انتہائی تربیت یافتہ نیوی سیلز کے ارکان سمیت 30 فوجی، سات افغان فوجی اور ایک افغان مترجم ہلاک ہوگئے تھے۔ ایک دہائی سے جاری افغان جنگ میں کسی ایک ہی واقعے میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا یہ سب سے بڑا واقعہ تھا۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…