کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کے علاقے سرے میں بیس اکتوبر کو ہونے والی اقتصادی اجلاس میں بش کی شرکت متوقع ہے۔ ایمنسٹی نے کینیڈا کے اٹارنی جنرل کو اس حوالے سے دستاویز گزشتہ ماہ بھیجی تھیں۔ تاہم ذرائع ابلاغ کو یہ اب جاری کی گئی ہیں۔ لندن میں قائم اس ادارے کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کی متعدد خلاف ورزیوں کے لیے بش قانونی طور پر ذمہ دار ہیں۔
ایمنسٹی کی سوسن لی نے بیان میں کہا: ’’امریکی حکام اب تک سابق صدر بش کو انصاف کی کٹہرے میں لانے میں ناکام رہے ہیں۔ ایسے میں بین الاقوامی برادری کو قدم بڑھانا چاہیے۔ اس حوالے سے ان کے آئندہ دورے کے موقع پر کینیڈا کارروائی کرنے میں ناکام رہا تو یہ اس کی جانب سے تشدد کے خلاف اقوام متحدہ کے کنونشن کی خلاف ورزی ہو گی جبکہ اس سے بنیادی انسانی حقوق کی توہین کا اظہار ہوگا۔‘
کینیڈا کے وزیر برائے ایمیگریشن جیسن کینی نے یہ مطالبہ کرنے پر ایمنسٹی پر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے: ’’اس طرح کی بیان بازی سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے بہت سے معزز کارکن ایمنسٹی انٹرنیشنل کو کیوں چھوڑ چکے ہیں۔‘‘ مسٹر کینی نے کہا کہ بش کو کینیڈا آنے کی اجازت دی جائے یا نہ، اس کا فیصلہ کینیڈا کے بارڈر حکام آزادانہ طور پر کریں گے۔
خیال رہے کہ قبل ازیں گرفتاری کے ایسے ہی مطالبوں کی وجہ سے بش نے رواں برس فروری میں اپنا دورہ سوئٹزرلینڈ بھی پوشیدہ رکھا تھا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ بش کے خلاف کارروائی کے لیے ہر اس ملک سے رابطہ کیا جائے گا، جس کا وہ دورہ کریں گے۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام