Categories: افغانستان

کابل : برٹش کلچرل سنٹر پر حملہ، 12 افراد ہلاک

کابل(خبررساں ادارے) افغانستان میں یوم آزادی کے موقع پر دارالحکومت کابل میں برٹش کلچرل سنٹر کے قریب یکے بعد دیگرے پانچ خود کش حملوں، دھماکوں و فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم بارہ افراد ہلاک اور دس زخمی ہوگئے ہیں۔ طالبان نے حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق ابتدائی حملہ جمعہ علی الصبح پانچ بج کر پینتالیس منٹ پر ہوا۔ دس منٹ کے وقفے میں دو دھماکے سنے گئے اور شدید فائرنگ شروع ہوگئی جس کے بعد ایساف فوجیوں نے علاقے میں پہنچنا شروع کر دیا ۔ جائے وقوعہ پر ایک جلتی ہوئی کار کو دیکھا گیا جسے برٹش کلچرل سنٹر کی عمارت کی ایک دیوار سے ٹکرا دیا گیا تھا۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے پانچ زور دار دھماکے ہوئے دھماکوں کے بعد خونریز جھڑپ شروع ہوگئی اور زور دار دھماکے سنے گئے۔
یہ حملہ ایسے وقت ہوا ہے جب افغانستان میں برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کی خوشی میں عام تعطیل کی جا رہی ہے۔ افغانستان نے 19 اگست 1919 میں برطانیہ سے آزادی حاصل کی تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کم از کم ابتدائی دو حملے خود کش تھے۔ افغان وزارت داخلہ کے ترجمان صدیق صدیقی کے مطابق اس کارروائی میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور دس زخمی ہوئے ہیں جبکہ ایک حملہ آور اب بھی زندہ ہے جو مزاحمت کر رہا ہے۔ کابل پولیس کے ترجمان حشمت ستانکزئی کے مطابق مارے جانے والے  افراد میں دو پولیس اہلکار اور دو بلدیہ کے ملازمین شامل ہیں جو قریبی علاقے میں کام کر رہے تھے۔ پولیس کے مطابق ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
ادھر کابل میں برطانوی سفارتخانے اور ایساف فورس نے تصدیق کی ہے کہ حملے کا نشانہ برٹش کلچرل سنٹر تھا۔ سفارتخانے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ برٹش کونسل خانے کی عمارت پر حملہ کی تصدیق کرتے ہیں اور سفارتخانہ ہلاکتوں کی تفصیلات معلوم کرنے کے لئے افغان حکام سے رابطے میں ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق جائے وقوعہ پر برطانوی امریکی و فرانسیسی فوجیوں کو دیکھا گیا ہے۔ حملے کے بعد ایساف کی دو بڑی بکتر بند گاڑیاں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور ہیلی کاپٹرز نے علاقے کا گھیرائو کر لیا تاہم یہ فوری طور پر واضح نہیں ہوسکا کہ آیا یہ افغان ہیلی کاپٹر تھے یا غیر ملکی۔ ایساف کے ترجمان کیپٹن جسٹس بروک ہوف کے مطابق فورس نے فوجیوں کی ایک محدود  تعداد جائے وقوعہ پر بھیج دی اور افغان فوج کی نگرانی میں چلنے والے آپریشن میں ہمارا چھوٹے پیمانے پر کردار ہے۔
کابل میں مکمل سکیورٹی کنٹرول افغان فورسز کے پاس ہے ادھر طالبان ترجمان ذبیع اللہ مجاہد نے نامعلوم مقام سے ٹیلی فون پر فرانسیسی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی حملہ آوروں کا ہدف برٹش کلچر سنٹر تھا اور اقوام متحدہ کا گیسٹ ہائوس تھا۔ تاہم افغانستان میں اقوام متحدہ کے معاون مشن کے ترجمان ڈان میک نورٹن نے اس کی تردید کی کہ عالمی ادارے کا کوئی مرکز حملے کا نشانہ بنا ہے۔
طالبان ترجمان کا کہنا ہے کہ مجاہدین نے مذکورہ کمپائونڈز کو نشانہ بنایا اور افغان پولیس کے ساتھ خونریز جھڑپ جاری ہے۔ ترجمان کے مطابق آج ہمارا برطانیہ سے آزادی کا دن ہے اور اس کارروائی کا مقصد یوم آزادی منانا تھا۔ بانوے سال قبل برطانیہ نے ہماری آزادی کو تسلیم کیا تھا اب وہ دوبارہ ہمارے ملک پر قابض ہیں اور انہیں دوبارہ ہماری آزادی کو تسلیم کرنا ہوگا۔
برطانیہ کے افغانستان میں امریکہ کے بعد دوسرے بڑی تعداد میں فوجی تعینات ہیں جو زیادہ تر جنوبی افغانستان میں تعینات ہیں اور ان کی تعداد 9,500 ہے۔ برٹش کلچرل سنٹر ایک سرکاری فنڈز سے چلنے والا ادارہ ہے۔ جس کا کام ثقافتی تعلقات کو فروغ دینا ہے۔ اس کے دنیا بھر میں دفاتر ہیں۔ برٹش کونسل کی ویب سائٹ پرجاری بیان کے مطابق ادارے کا کابل میں کام افغانیوں کو انگریزی زبان سکھانا ہے جس کی بے پناہ ڈیمانڈ پائی جاتی ہے۔ جہاں دہشتگردی کا یہ واقعہ رونما ہوا ہے وہ انتہائی حساس علاقہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس علاقے میں نہ صرف اقوام متحدہ کے دفاتر قائم ہیں بلکہ غیر ملکی سکونت پذیر ہیں۔

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago