شام میں حقوق انسانی تنظیم کے مبصرین کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے جنوبی صوبے درعا میں پندرہ،ہومز میں چھ،دمشق اور دوما میں ایک ایک شہری کو گولیوں کا نشانہ بنایا، دیگر شہروں میں دس مظاہرین ہلاک ہوئے،یہ تمام لوگ نماز جمعہ کے بعد صدر بشارالاسد کے خلاف احتجاج میں شریک تھے.
مارچ سے شروع ہونے والے مظاہروں میں اب تک دوہزار سے زائد افراد فورسز کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں.
دوسری طرف روس اور ترکی نے امریکی صدر باراک اوباما کے اس بیان کی مذمت کی ہے جس میں انھوں نے بشارالاسد سے فوری طور پرمنصب صدارت چھوڑنے کامطالبہ کیا تھا۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار