حکومت مخالف مسلح جنگجوؤں کے ترجمان نے گذشتہ روز ایک بیان میں کہا تھا کہ عبدالسلام جلود لیبیا کے مغربی پہاڑی سلسلے میں انقلابیوں کے زیر تسلط علاقے “الزنتان” منتقل ہو گئے ہیں۔
انقلابیوں کے زیر انتظام چلنے والے ایک سیٹلائیٹ ٹی وی چینل پر عبد السلام جلود کے حوالے سے یہ بات بہ اصرار کہی جا رہی ہے کہ “قذافی کی حکومت کا خاتمہ ہو چکا ہے۔”
سنہ 1941ء میں پیدا ہونے والے عبدالسلام جلود 1972ء سے 1977ء تک لیبیا میں متعدد اہم عہدوں پر فائز رہے۔ وہ سنہ 1969ء میں کرنل قذافی کو اقتدار کے سنگھاسن پر متمکن کرنے والے “فاتح انقلاب” کی چند اہم شخصیات میں شامل تھے۔
صدر قذافی سے اختلافات کی وجہ سے انہیں 1990ء میں ملک بدر کر دیا گیا جس کے بعد وہ کئی برس تک نظر بند رہے۔ کرنل قذافی سے الگ ہونے والے عبدالسلام جلود کا تعلق سینٹرل لیبیا کے علاقے “صبحۃ” سے ہیں۔
حکومت میں شامل نہ ہونے کے باوجود مسٹر جلود کی علاحدگی کا اعلان کرنل قذافی کے لئے ایک بڑا صدمہ ہے کیونکہ ان کی فوجیں آئے روز انقلابیوں کے ہاتھوں شکست کھا رہی ہیں۔
امسال فروری میں لیبیا کے مشرق سے شروع ہونے والی عوامی انتفاضہ کے بعد اب تک بہت سی اہم شخصیات کرنل قذافی سے اختلافات کی وجہ سے انہیں چھوڑ چکے ہیں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…