زاہدان (سنی آن لائن) دارالعلوم زاہدان کے نوجوان استاذ مولوی اکبر بیدل اور قاری ہدایت اللہ قنبرزہی کی گرفتاری سے سات دن گزرنے کے بعد ابھی تک ان کے حالات کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہے۔
سکیورٹی فورسز نے جمعرات انیس اکتوبر کو قاری ہدایت اللہ قنبرزہی کو زاہدان شہر کے رازی روڈ سے نامعلوم وجوہ کی بنا پر گرفتار کیا ہے۔
ان کے علاوہ، جمعہ بیس اکتوبر کو سکیورٹی فورسز نے جامعہ دارالعلوم زاہدان کے اساتذہ کی رہائشی بلڈنگ پر غیرقانونی طورپر زبردستی سے دھاوا بول کر مولوی اکبر بیدل کو گرفتار کرکے لے گئے۔ اسی دن سینکڑوں نمازی نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد گرفتار ہوچکے ہیں جن پر تشدد کی رپورٹس شائع ہوئی ہیں۔
ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود مذکورہ اساتذہ کی گرفتاری کی اصل وجہ اور حراست کا مقام واضح نہیں جس سے ان کے اہل خانہ سخت پریشان ہیں۔
یاد رہے ان کے علاوہ، مولانا عبدالمجید مرادزہی، مولوی امان اللہ سعدی، مولوی حمیداللہ فاروقی، عبدالنصیر شہ بخش، اسامہ شہ بخش اور مہدی خداشناس جو دارالعلوم زاہدان سے وابستہ اساتذہ اور ملازمین ہیں، سکیورٹی فورسز کی حراست میں ہیں۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…