ایرانی اہل سنت کی خبریں

سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور سماجی و ثقافتی کارکنوں کی شدید مذمت

سیستان و بلوچستان کے صوبے میں رہبرِ اعلی کے نمائندے کی جانب سے حضرت مولانا عبدالحمید کے خلاف دیے گئے اشتعال انگیز اور توہین آمیز بیانات کے بعد، جن سے صوبے کے اندر اور باہر عام لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے، دینی مدارس کے منتظمین، مختلف قبائل کے نمائندوں، دانشوروں اور سیاسی، سماجی و ثقافتی کارکنوں نے الگ الگ بیانات جاری کرکے رہبرِ کے نمائندے کے بیانات کی مذمت کی اور شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید، ان کے مؤقف اور ان کی دانشمندانہ و مخلصانہ بصیرت کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔
ان بیانات میں حضرت مولانا عبدالحمید کی ’’شیعہ اور سنی عوام کے درمیان خصوصی سماجی اور عوامی مقبولیت‘‘ کی طرف اشارہ کیا گیا، نیز حساس مواقع پر، خصوصاً ’’زاہدان کے خونی جمعہ‘‘ کے سانحے کے بعد، ’’اتحاد اور بھائی چارے کے تحفظ‘‘ اور ’’علاقے میں امن و امان کے قیام‘‘ میں ان کے اہم اور مؤثر کردار کو اجاگر کیا گیا۔ بیانات میں عوام کو مولانا عبدالحمید کی جانب سے ’’صبر اور ثابت قدمی اختیار کرنے‘‘ کی تلقین کا بھی ذکر کیا گیا۔
مذکورہ بیانات میں یہ بھی کہا گیا کہ اس عہدیدار کی جانب سے حضرت مولانا عبدالحمید پر عائد کیے گئے الزامات محض ’’ذمہ داری سے فرار کا بہانہ‘‘ ہیں، اور یہ الزامات ’’امن و امان کو متزلزل کرتے‘‘ اور ’’دشمن کے ایجنڈوں کی تکمیل میں معاون‘‘ ثابت ہوتے ہیں۔ بیانات میں ایسے اقدامات کی روک تھام اور ان افراد کے خلاف زاہدان مؤثر کارروائی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
سیستان و بلوچستان کے متعدد علما اور قبائل نے بھی اس اعلیٰ عہدیدار کے حالیہ بیانات اور ماضی میں الزامات عائد کرنے اور اختلافات کو ہوا دینے کے ان کے ریکارڈ پر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ’’فوری برطرف کیے جانے‘‘ کا مطالبہ کیا ہے۔

baloch

Recent Posts

تین سنی بلوچ علما کو راسک کے انٹیلی جنس دفتر میں طلب کیا گیا

سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…

1 hour ago

آبِ زم زم: فضیلت، شفاء اور قبولیت

زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…

1 hour ago

حکام ’’جنگ کے انتظام‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’غربت اور بھوک کے بحران‘‘ کا بھی انتظام کریں اور ’’مکالمے اور مذاکرات‘‘ کو فروغ دیں

حکام ’’جنگ کے انتظام‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’غربت اور بھوک کے بحران‘‘ کا بھی انتظام…

2 days ago

اسلامی ممالک کا ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہونے میں کوئی خیر یا فائدہ نہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…

1 week ago

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

3 weeks ago