زاہدان (سنی آن لائن) ایرانی بلوچستان کے ممتاز عالم دین مولانا فضل الرحمن کوہی زاہدان کے قریب سکیورٹی فورسز کی ایک چوکی سے چھ ساتھیوں سمیت اتوار بائیس اکتوبر کو گرفتار ہوئے۔
مشہد کی خصوصی عدالت برائے علما نے مولانا کوہی کی گرفتاری کی خبر کی تصدیق کرتے ہوئے ان پر اتحاد گریزی کا الزام عائد کیا ہے۔ مولانا کوہی کے ساتھیوں کو چند گھنٹے کے بعد چھوڑدیا گیاہے جبکہ انہیں مشہد منتقل کیاگیاہے۔
مولانا فضل الرحمن ضلع سرباز کے پشامگ کے خطیب اور مدرسہ انوارالحرمین کے مہتمم ہیں۔ موصوف حکومت کی بعض پالیسیوں پر سخت تنقید کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔
تین سال قبل مشہد کی خصوصی عدالت نے مولانا فضل الرحمن کوہی کو چھ سال چار ماہ قید کی سزا سنائی تھی جس کی ایک تہائی کاٹنے کے بعد انہیں رہا کرنا چاہیے تھا، لیکن انہیں ایک سال بعد پچیس ستمبر دوہزار تئیس کو رہائی ملی۔ ایک مہینہ مکمل نہیں ہوا تھا کہ انہیں دوبارہ گرفتار کیا گیا۔
مولانا فضل الرحمن کوہی کو گزشتہ ہفتہ زاہدان کے دورے اور مولانا عبدالحمید سے ملاقات سے روک دیا گیا تھا چنانچہ انہیں زاہدان کی سکیورٹی چوکی پر روک کر واپس گھر بھیج دیا گیا تھا۔
یاد رہے جمعہ بیس اکتوبر کو زاہدان میں سنی نمازیوں پر سکیورٹی فورسز کا دھاوا اور بیسیوں افراد کو گرفتار کرنے اور جامعہ دارالعلوم زاہدان کے طلبہ و اساتذہ کو ہراسان کرنے اور ان کے گھروں کی تلاشی لینے پر پورے بلوچستان میں سخت ردعمل کا اظہار کیا جارہاہے۔ مولانا کوہی نے بھی بیان دیتے ہوئے اس واقعے کی سخت مذمت کی تھی۔
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…