ایرانی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ممتاز عالم دین نے ایکس (سابق ٹویٹر) میں لکھاہے بعض ادارے زاہدان کے خونین جمعہ (تیس ستمبر دوہزار بائیس) کے شہدا کے لواحقین پر دباؤ ڈال رہے ہیں تاکہ وہ مصالحت پر رضامند ہوکر قاتلوں کی سزا اور ٹرائل کے مطالبے سے دستبردار ہوجائیں۔
مولانا عبدالحمید نے کہاہے شہدا کے لواحقین کو شکایت ہے کہ بعض ادارے ان پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ اپنے عزیزوں کے قاتلوں سے شکایت چھوڑ کر مصالحہ کریں۔
انہوں نے زور دیاہے کہ رضامندی اور مصالحت کا اس وقت اعتبار ہوگا جب کسی جبر اور دباؤ کے بغیر خوشی خوشی سے ہو۔ مظلوم کو رضامندی دینے کے لیے دھمکی دینا دین اور اخلاق کے خلاف ہے۔
گزشتہ سال تیس ستمبر کو زاہدان میں نماز جمعہ کے بعد سکیورٹی فورسز نے احتجاج دبانے کے بہانے سے نمازیوں پر فائر کھولی تھی جہاں کم از کم ایک سو افراد شہید جبکہ تین سو کے قریب زخمی ہوئے۔ بعض زخمی اگلے ہفتوں اور مہینوں میں انتقال کرگئے۔
حکام نے شروع میں الزام عائد کیا ‘‘علیحدہ پسند دہشت گردوں’’ نے ایک پولیس سٹیشن پر حملہ کیا ہے۔ لیکن عوامی دباؤ کے بعد بالاخر انہوں نے اعتراف کیا عام شہری اس واقعے میں مارے گئے ہیں، عدلیہ حکام نے قاتلوں کو سزا دلوانے کا وعدہ کیا لیکن اب ایک شخص بھی اس الزام میں قید میں نہیں ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں بے گھر افراد کے خیموں کو نشانہ بنایا گیا…
قومی مفادات اور ایرانی عوام کی زندگی کو کسی دوسرے ملک یا قوم کے مفادات…