عالم اسلام

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ پر مشتمل مکہ اتحاد خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے لیے قائم کیا گیا ہے، جبکہ اس اتحاد کو عملی شکل دینے کے لیے اہم فیصلے کیے جاچکے ہیں۔
دوسری جانب انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے ساتھ ترکیہ کے بڑھتے ہوئے تعلقات مغرب سے دوری کی علامت نہیں بلکہ انقرہ کی متوازن اور کثیرالجہتی خارجہ پالیسی کا حصہ ہیں۔
کرغزستان کے دورے سے واپسی پر طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر اردوان نے کہا کہ استنبول میں مکہ اتحاد کی حکمتِ عملی، سیاسی اور عسکری کمیٹی کا اجلاس اتحاد کو عملی شکل دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور سربراہانِ افواج نے شرکت کی۔
انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں اتحاد کے سیکریٹریٹ کے قیام اور اسے فعال بنانے سمیت سیاسی و عسکری تعاون کے مختلف پہلوؤں پر فیصلے کیے گئے۔ دفاعی صنعت کے علاوہ فوجی تربیت، عسکری معیارات میں ہم آہنگی، فوجی خطرات، وسائل اور عسکری صلاحیتوں کے باہمی تبادلے جیسے امور بھی زیرِ غور آئے۔
صدر اردوان نے کہا کہ مکہ اتحاد پر کھلے عام اعتراض کرنے والے ممالک بہت کم ہیں، تاہم بعض ممالک پسِ پردہ اس کے حوالے سے تحفظات رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان قائم توازن نے متعدد عناصر کے لیے اس اتحاد کو کھلے عام تنقید کا نشانہ بنانا مشکل بنا دیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ مکہ اتحاد کا مقصد خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کو فروغ دینا ہے اور ترکیہ اپنے برادر ممالک کے ساتھ مل کر اس تعاون کو مزید مضبوط بناتا رہے گا۔
صدر اردوان نے کہا کہ ترکیہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ اپنے اقتصادی اور سیاسی روابط مزید مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اس تنظیم کے ٹرم چئیرمین ہونے کے دور میں ان تعلقات میں مزید اضافہ ہوگا اور تنظیم میں ترکیہ کی پوزیشن مزید مضبوط ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ پہلے ہی دوطرفہ سطح پر وسیع تجارتی اور اقتصادی تعلقات رکھتا ہے۔ چین سے وسطی ایشیا، روس سے جنوبی ایشیا تک پھیلا وسیع خطہ ترکیہ کے لیے تجارت اور معیشت کے اعتبار سے بڑے مواقع رکھتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات مغرب سے دوری نہیں بلکہ ترکیہ کی متوازن اور کثیرالجہتی خارجہ پالیسی کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انقرہ کا مقصد 360 درجے کے وژن کے تحت اپنا عالمی سیاسی، اقتصادی اور تزویراتی وزن بڑھانا ہے۔

baloch

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

4 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

4 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

1 week ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

1 week ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

1 week ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago