روسی صدر ولادیمیر پوتن نے مشرقی یوکرین میں باغیوں کے زیر کنٹرول علاقوں ڈونیسک اور لوہانسک کو بطور آزاد ریاستیں تسلیم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے فوج بھیجنے کا حکم دے دیا۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے قوم سے خطاب میں کہا کہ یوکرین کے 2 علاقوں ڈونیسک اور لوہانسک کو آزاد ریاستوں کے طور پر تسلیم کرنے کے حکم نامے پر دستخط کردیے ہیں تاہم روسی پارلیمنٹ سے کہا ہے کہ وہ جلد از جلد اس کی توثیق کرے۔
روسی صدر نے باغیوں کے زیر تسلط ریاستوں کو نہ صرف خود مختار ریاستیں تسلیم کرلیا بلکہ وہاں امن و امان کے قیام کے لیے روسی فوج بھیجنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
یوکرین کے علاقوں ڈونیسک اور لوہانسک میں روسی حمایت یافتہ باغی 2014ء سے یوکرین کی افواج سے لڑ رہے ہیں جنہیں روسی صدر نے آزاد ریاستیں تسلیم کیا ہے جب کہ مغربی طاقتوں کا کہنا ہے کہ اس سے روسی افواج کا یوکرین کے مشرقی علاقوں میں داخل ہونا آسان ہوجائے گا۔
روس کا یہ اقدام یوکرین کی سرحدوں پر اس کی فوجی تعیناتی پر کئی مہینوں کی کشیدگی کے درمیان سامنے آیا، جس نے ایک جنگ کا خدشہ پیدا کردیا تھا۔
دوسری جانب برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن اور نیٹو کے سیکریٹری جنرل اسٹولٹن برگ نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے مشرقی یوکرین کے دو ریاستوں کو تسلیم کرنے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔
ادھر وائٹ ہاؤس نے کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین کے مشرقی علاقوں کی آزادی کو تسلیم کرنے کے پیوٹن کے فیصلے کی سخت مذمت کی ہے اورڈونئیسک اور لوہانسک پر پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…