Schoolgirls attend class in Herat on August 17, 2021, following the Taliban stunning takeover of the country. (Photo by AREF KARIMI / AFP)
طالبان حکومت پر منڈلاتی پابندیوں کی وجہ سے ملک معاشی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے، ایسے میں بچوں کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے نے اعلان کیا ہے کہ وہ افغانستان کے اساتذہ کو ماہانہ وظیفہ ادا کرے گی۔
گزشتہ سال اگست میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ملک بھر کے بیشتر اسکول بند رہنے کی وجہ سے اساتذہ تنخواہوں سے محروم ہوگئے تھے۔
ڈان اخبار میں شائع ہونے والی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یونیسیف نے اعلان کیا جنوری اور فروری کے لیے تقریباً 100 ڈالر کے مساوی رقم مقامی کرنسی میں ایک لاکھ 94 ہزار پرائمری اور سیکنڈری اسکول ٹیچرز کو ادا کی جائے گی۔
اس سلسلے میں یونیسیف کی مالی اعانت یورپی یونین کرے گی۔
یونیسیف افغانستان کے نمائندے محمد ایویا نے کہا کہ ‘بہت سے اساتذہ کے لیے مہینوں کی غیر یقینی صورتحال اور مشکلات کے بعد ہمیں افغانستان کے سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کے لیے ہنگامی امداد فراہم کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے جنہوں نے بچوں کا سکھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔’
خیال رہے کہ گزشتہ سال اگست میں غیر ملکی افواج کے انخلا کے نتیجے میں طالبان کے اقتدار سنبھال کے بعد سے افغانستان معاشی بحران کا شکار ہے۔
افغانستان کے بینکنگ سیکٹر پر عائد پابندیوں کی وجہ سے نئی انتظامیہ اساتذہ سمیت متعدد سرکاری شعبہ جات کی تنخواہیں ادا کرنےکے لیے مشکلات کا سامنا کررہی ہے۔
سفارت کاروں کے مطابق بین الاقوامی برادری طالبان کی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیے بغیر ان کے ساتھ بات چیت کرنے کے حوالے سے غور و فکر کر رہی ہے۔
تاہم عالمی برادری نے طالبان کے ساتھ بات کرتے وقت لڑکیوں کی تعلیم کو ایک اہم مطالبہ قرار دیا ہے۔
دوسری جانب طالبان لڑکیوں کی تعلیم کے اپنے منصوبوں کے حوالے سے مبہم ہیں اور بہت سے صوبوں میں اب بھی لڑکیاں اسکول جانے سے قاصر ہیں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں بے گھر افراد کے خیموں کو نشانہ بنایا گیا…
قومی مفادات اور ایرانی عوام کی زندگی کو کسی دوسرے ملک یا قوم کے مفادات…