سعودی عرب کی وزارت اسلامی امور و دعوت و رہنمائی کا کہنا ہے کہ مساجد بشمول حرمین شریفین میں آنے والے کرونا ایس او پیز کی پابندی کرتے ہوئے ماسک اور سماجی فاصلے کا خیال رکھیں-
وزیر اسلامی امور ڈاکٹر عبداللطیف آل الشیخ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے کیسز بھی بڑھ رہے ہیں۔ وائرس کی نئی شکل اومیکرون کا خطرہ بھی ہے ان حالات کے پیش نظرمساجد میں آنے والوں کو چاہئے کہ وہ کرونا ایس او پیز کی پابندی کے سلسلے میں انتظامیہ سے بھرپور تعاون کریں۔
آل الشیخ نے مزید کہا کہ حفاظتی تدابیر کی پابندی کی بدولت لوگ وائرس کے خطرے سے محفوظ رہیں گے- اللہ تعالی کے فضل وکرم کے بعد ایس او پیز کی پابندی وائرس سے بچانے میں معاون ثابت ہوگی- سب لوگ فرض شناسی کا مظاہرہ کریں اور وطن عزیز کو وبا سے بچانے میں اپنا حصہ ڈالیں-
واضح رہے حرمین شریفین میں بھی نماز اور طواف کے لیے سماجی فاصلے کے اصول پر عمل دآمد کو دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔ چند ماہ قبل کیسز میں کمی کی وجہ سے حرمین شریفین بالخصوص المسجد الحرام میں مکمل گنجائش کے مطابق لوگوں کو آنے کی اجازت دیتے ہوئے سماجی فاصلے کے اصول کو ختم کر دیا گیا تھا۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید