شمالی افریقی مسلم ملک تیونس میں گزشتہ ماہ 2 خود کش دھماکوں کے بعد عوامی اداروں میں نقاب پہن کر داخل ہونے پر پابندی عائد کردی گئی۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق تیونس کے وزیراعظم یوسف شاہد نے سیکیورٹی وجوہات کے باعث ملک بھر کے عوامی اداروں میں نقاب پہنے پر مکمل پابندی عائد کر دی جو کہ فی الفور نافذ العمل ہو گی۔
حکومت کی جانب سے جاری فرمان میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی ایسے فرد کو عوام سے وابستہ اداروں کے ہیڈ کوارٹرز، ایڈمنسٹریشن اور دیگر عمارات میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی جس نے اپنا چہرہ چھپایا ہوا ہو۔
تیونس میں سیکولر حکومت کی جانب سے مذہبی لباس پہننے پر طویل پابندی کے خاتمے کے بعد 2011ء میں خواتین کو نقاب پہننے کی اجازت حاصل ہوگئی تھی تاہم گزشتہ ماہ دو خود کش حملوں میں 2 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ایک حملہ آور نقاب پوش خاتون تھیں جس کے بعد پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار