سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل مردوں میں چست لباس، یعنی پینٹ پتلون کا عام رواج ہو گیا ہے، مرد کے لیے گھٹنوں سے ناف تک کا حصہ ستر ہے، کیا ستر کے صرف یہ معنی ہیں کہ بدن کا رنگ نظر نہ آئے، یا اس کے ساتھ بدن کی ساخت کا نظر نہ آنا یہ بھی مطلوب شرعی ہے؟ ایسے پتلون کے استعمال کا کیا حکم ہے؟ اس کو پہن کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟پہننے والے کی رانوں کو دیکھنا اور اس کو دکھانے کا کیا حکم ہے؟ ایسی نماز واجب الاعادہ ہے یا نہیں؟ جواب مدلل تحریر فرمائیں۔
جواب… واضح رہے کہ فقہاء کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ مرد کے لیے گھٹنوں سے ناف تک کے حصے کے ستر میں بدن کی ساخت کا نظر نہ آنا بھی مطلوب شرعی ہے، لہٰذا اگر لباس اتنا چست ہو کہ اس میں واجب الستر اعضاء کی بناوٹ اور حجم نظر آتا ہو تو اس کا استعمال، پہننے والے کی رانوں کو دیکھنا، اس کو دکھانا ناجائز ہے، البتہ اس میں نماز کراہت کے ساتھ ہو جاتی ہے۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…