فقہ و احکام

پرانی قبریں کھود کر خزانہ نکالنا

سوال: ہمارے گاؤں میں کچھ لوگ پرانی قبریں کھود کر اس میں خزانے تلاش کرتے ہیں، اور بعض کو ملے بھی ہیں، پھر وہ اسے مہنگے داموں بیچتے ہیں، ان میں سے بعض میں حقیقتاً قبریں ہوتی ہیں اور بعض صرف بظاہر قبریں ہوتی ہیں، جو حقیقتاً بھی قبریں ہوں تو وہ بھی کافی پرانی ہوتی ہیں، تو کیا اس طرح خزانہ حاصل کرنے کے لیے قبر کھود نا جائز ہے؟

جواب: میت کو قبر میں دفنانے کے بعد کسی شرعی ضرورت کے بغیر قبر کو کھولنا جائز نہیں ہے، اور شرعی ضرورت سے مراد ایسی ضرورت ہو کہ جس سے بندوں کا حق متعلق ہو، مثلاً قبر میں میت کے ساتھ واقعی کسی کا مال یا سامان بھی دفن ہوگیا ہو تو قبر کو کھود کر مال اور سامان نکالنا جائز ہے، لیکن اگر قبر میں مال کا ہونا یقینی نہ ہو یا صاحبِ حق کی طرف سے ایسا کوئی مطالبہ نہ ہو تو صرف خزانے کے احتمال کی وجہ سے قبریں کھودنا جائز نہیں ہے، یہ میت اور قبر کی بے حرمتی ہے۔
لہٰذا خزانہ (سونا اور دیگر قیمتی اشیاءوغیرہ) کے حصول کے لیے قبروں کو کھودنا جائز نہیں ہے ، اگرچہ قبریں پرانی ہوچکی ہوں، نیز خدانخواستہ یہ سلسلہ چلتا رہا تو لوگ خزانے کے حصول کے لیے ہر ایک قبر کو فرضی کہہ کر کھودنے لگیں گے، اور میت کی اہانت کا ذریعہ ہوگا، جوکہ جائز نہیں ہے۔

baloch

Recent Posts

تین سنی بلوچ علما کو راسک کے انٹیلی جنس دفتر میں طلب کیا گیا

سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…

2 weeks ago

آبِ زم زم: فضیلت، شفاء اور قبولیت

زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…

2 weeks ago

حکام ’’جنگ کے انتظام‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’غربت اور بھوک کے بحران‘‘ کا بھی انتظام کریں اور ’’مکالمے اور مذاکرات‘‘ کو فروغ دیں

حکام ’’جنگ کے انتظام‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’غربت اور بھوک کے بحران‘‘ کا بھی انتظام…

2 weeks ago