فقہ و احکام

فجر کی جماعت کے دوران سنتیں پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

السلام علیکم مفتی صاحب! کیا فرض نماز کی جماعت ہو رہی ہو تو کوئی اور نماز پڑھی جا سکتی ہے؟ مثال کے طور پے فجر کی 2 سنت یا کوئی اور نفلی نماز۔
جواب:
نماز فجر کی دو سنتوں کے متعلق احادیث مبارکہ میں بہت زیادہ تاکید آئی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی بہت فضلیت بھی بیان فرمائی ہے۔ امام ابو جعفر طحاوی شرح معانی الآثار میں نقل کرتے ہیں کہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کے متعلق منقول ہے کہ اگر نمازِ فجر باجماعت شروع ہو جاتی اور انہوں نے ابھی سنتیں ادا نہ کی ہوتیں تو وہ پہلے مسجد کے کسی گوشے میں سنتیں ادا کرتے، پھر باجماعت نماز میں شریک ہو جاتے۔ روایت درج ذیل ہے:
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّهُ كَانَ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ فَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ , ثُمَّ يَدْخُلُ مَعَ الْقَوْمِ فِي الصَّلَاةِ.
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوتے اور لوگ (باجماعت) نمازِ فجر میں صف بستہ ہوتے تو یہ پہلے مسجد کے گوشے میں دو رکعت (سنتیں) پڑھتے، پھر لوگوں کے ساتھ نماز میں شامل ہو جاتے۔
طحاوي، شرح معاني الآثار، کتاب الصلاة، باب الرجل يدخل المسجد والإمام في صلاة الفجر، 1 : 487، رقم : 2164
لیکن ہمارے ہاں یہ انتہائی غلط طریقہ رائج ہے۔ جیسے بعض لوگوں کا معمول ہے کہ مسجد میں فجر کی جماعت کھڑی ہوتی ہے اور وہ جماعت کی صفوں میں متصل کھڑے ہو کر سنتیں پڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایسا کرنے سے ایک نقصان یہ ہے کہ امام بآواز بلند قرآن حکیم کی تلاوت کر رہا ہوتا ہے جس کا سننا فرض ہے اور سنتوں میں مشغول شخص اس فرض کو ترک کر رہا ہوتا ہے۔ اس کا دوسرا نقصان یہ ہے کہ بعض اوقات سنتوں میں مشغولیت کی وجہ سے فرض نماز کی جماعت چھوٹ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ احادیث مبارکہ میں جہاں فجر کی سنتیں پڑھنے کی سخت تاکید کی گئی ہے وہاں فقہاء نے یہ تنبیہ بھی کی ہے کہ نمازی کو اگر فجر کی سنتیں پڑھنے کی وجہ سے جماعت سے محروم ہونے کا خدشہ ہو تو پھر سنتیں ترک کر کے جماعت کے ساتھ شامل ہو جائے اور سورج نکلنے کے بعد استواء (وقتِ مکروہ) سے پہلے سنتوں کی قضا کرے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ لَمْ يُصَلِّ رَكْعَتَيِ الفَجْرِ فَلْيُصَلِّهِمَا بَعْدَ مَا تَطْلُعُ الشَّمْسُ.
جو فجر کی دو سنتیں ادا نہ کر سکے، وہ طلوع آفتاب کے بعد پڑھ سکتا ہے۔
الترمذي، السنن، كتاب الصلاة، باب ما جاء في إعادتهما بعد طلوع الشمس، 2: 287، الرقم: 423، بيروت: دار إحياء التراث العربي
مختصر یہ ہے کہ فجر کی سنتیں ادا کرکے جماعت کے ساتھ مل سکتا ہو تو سنتیں پڑھ لے، باقی نمازوں کی پہلی سنتیں شروع کر چکا ہو تو دو سنتوں کے بعد سلام پھیر دے اگر تیسری رکعت کا سجدہ کر چکا ہو تو چار مکمل کر کے جماعت کے ساتھ شامل ہو جائے، اگر شروع نہ کی ہوں تو جماعت کے ساتھ شامل ہونا لازم ہے۔
واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

baloch

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

7 days ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago