فرانس میں مسلمانوں پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کرنے والے دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے 10 شدت پسند عیسائیوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس اور بحیرہ روم کے جزیرے کورسیکا میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے 10 انتہا پسندوں کو گرفتار کیا گیا ہے، یہ افراد مختلف مقامات پر مسلمانوں کی آبادی اور مساجد پر حملہ کرنے کے لیے منصوبہ بندی کررہے تھے۔ گرفتار ملزمان میں ایک ایسا 65 سالہ فرانسیسی شہری بھی شامل ہے، جو ماضی میں پولیس اہلکار رہا ہے۔ حراست میں لیے گئے شدت پسندوں کو نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے جہاں ان سے تفتیش کے دوران اہم معلومات کے حصول کی توقع کی جا رہی ہے۔
فرانس کے وزیر داخلہ ژیرار کولومب نے شدت پسندوں کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس کا شکریہ ادا کیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے DGSI کی دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی تعریف کی اور دہشت گردی اور شدت پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ فرانس میں شدت پسندوں کی جانب سے اقلیتیوں کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے اور تارکین وطن کے خلاف نفرت آمیز مہم چلانے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے سدباب کے لیے فرانس کی حکومت نے ملک کی انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ کو اہم ذمہ داریاں تفویض کی تھیں۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان