شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کی فراہم کردہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران ادلب شہر میں سرکاری فوج اور اس کی معاون روسی فوج کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں کم سے کم 150 عام شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔
شامی اپوزیشن کے قائم کردہ ریسکیویونٹ کے ایک رکن سالم ابو العزم نے بتایا کہ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران روسی فوج اور اسدی فوج کے جنگی طیاروں کی جانب سے ادلب میں بڑے پیمانے پر بمباری کی گئی ہے جس کے نتیجے میں ڈیڑھ سو عام شہری مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ چھ ماہ میں یہ ایک ہفتہ ہلاکتوں کے اعتبار سے سب سے زیادہ ہلاکت خیز واقع ہوا ہے۔
سالم ابو العزم نے بتایا کہ بمباری کے دوران 152 افراد لاشیں ملبے سے نکالی گئی ہیں جب کہ 279 شہریوں کو بچا لیا گیا۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان