طالبان کی جانب سے افغان فوج کے تربیتی کیمپ پر حملے میں ہلاک اہلکاروں کی تعداد 140 ہو گئی۔
غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغانستان کے شمالی صوبہ بلخ کے صدر مقام مزار شریف میں فوجی وردیوں میں ملبوس تقریباً 10 حملہ آوروں نے فوجی کیمپ پر حملہ کردیا جس کے بعد دونوں دہشت گردوں نے پہلے مسجد اور بعدازاں کھانا کھانے کے مقام پر فوجیوں پر گولیاں برسائیں جس کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد 140 ہو گئی ہے جب کہ متعدد زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
وزارت دفاع کے ترجمان کے مطابق فوجی تربیتی مرکز پر فوجی لباس میں ملبوس دہشت گرد گاڑی میں بیٹھ کر داخلی دروازے پر کلئیرنس لینے کے بعد دوسرے دروازے تک پہنچے جہاں اہلکار نے ان سے پوچھ گچھ کی تو ایک حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑالیا جب کہ گاڑی میں موجود دہشت گرد فوجی کیمپ کے اندرونی احاطے میں داخل ہوگئے جہاں ان میں سے ایک گروپ نے مسجد میں نماز پڑھنے والے فوجیوں کو نشانہ بنایا جب کہ دوسرے گروہ نے کھانا کھانے کے مقام پر اہلکاروں پر فائرنگ کی۔
حکام کے مطابق 10 میں سے 7 حملہ آور فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے جب کہ 2 نے خود کو دھماکے سے اڑایا اور ایک کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
دوسری جانب طالبان نے اپنے بیان میں فوجی تربیتی کیمپ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی جب کہ اس سے قبل گزشتہ ماہ داعش نے کابل کے فوجی اسپتال پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں 50 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…