شام میں باغیوں کے زیرقبضہ حلب شہرکے مشرقی حصے میں روسی اورشامی جنگی طیاروں نے بمباری جاری رکھی جس میں ایک اسپتال کوبیرل بموں سے نشانہ بنایا گیا جس میں 34 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔
اے ایف پی کے مطابق حلب کے شمال میں صدر بشارالاسدکی حامی فورسز نے پیش قدمی کی ہے۔ ادلب شہر میں ریسکیواہلکار روسی اور شامی طیاروں کی بمباری سے تباہ شدہ عمارت کا ملبہ ہٹانے کا کام کر رہے تھے کہ ابو کفہا نامی امدادی اہلکار نے 30 روزکی نومولود بچی کو زخمی حالت میں دیکھا اور اسے جب نکالا تو زخمی حالت میں دیکھ کر بے اختیار رو پڑا۔
دوسری طرف اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بانکی مون نے اعلان کیا ہے کہ شامی شہر حلب میں گزشتہ ہفتے امدادی قافلے پر ہونے والے حملے کی تفتیش کے لیے ایک انکوائری بورڈ تشکیل دے دیا گیا ہے۔
بانکی مون نے کہاکہ اقوام متحدہ کاایک داخلی بورڈ اس واقعے سے متعلق حقائق جمع کرے گا جبکہ یہ رپورٹ بانکی مون کو پیش کی جائے گی۔ اقوام متحدہ خبردارکرچکی ہے کہ امدادی قافلوں پرحملے جنگی جرائم کے زمرے میں آئیں گے۔
امریکا نے کہاہے کہ روس کی شام میں بڑھتی ہوئی فوجی کارروائی شامی حزب اختلاف کے اندراعتدال پسند عناصر کو شدت پسندوں کی جانب دھکیلنے پرمجبورکررہی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ روس کی شام میں تازہ فضائی کارروائیوں سے صورت حال مزید خراب ہو رہی ہے۔
ایکسپریس نیوز
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید