يوروپي ملک بلغاریہ کی پارلیمنٹ نے پورا چہرہ ڈھکنے والے برقعہ کے استعمال پر پابندی لگانے کا قانون منظور کیا ہے۔
کل پارلیمنٹ سے اس قانون کو منظوری ملنے کے بعد اب عوامی مقامات پر چہرے کو ڈھکنے والے برقع پر پابندی عائد رہے گی اور سب سے پہلے اس کا خلاف ورزی کرنے پر 200 لیوا (103 یورو یا 114 امریکی ڈالر)، بار بار خلاف ورزی پر 1500 لیوا کے جرمانے کی تجویز ہے۔
تقریبا 13 فیصد مسلم آبادی ہے والے اس ملک کی مسلم خواتین عام طور پر اپنے بالوں کو ڈھکنے کے لئے ایک سادہ سکارف کا استعمال کرتی ہیں۔ لیکن حالیہ دنوں میں قدامت پسند مسلم معاشرے کی عورتوں میں برقع پہننے کا چلن بڑھا ہے۔
برقع پر پابندی کے اس قانون کا ایم یل ڈي تركش مائنارٹي پارٹی نے یہ کہتے ہوئے مخالفت کی ہے کہ اس سے دوسری سیاسی جماعتوں کے ‘مذہبی عدم برداشت’ کا پتہ چلتا ہے۔ اس سے پہلے فرانس اور بیلجیم جیسے ممالک نے بھی برقع پر پابندی لگائی ہے اور یورپ کے دوسرے ممالک میں بھی ایسے قانون بنانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
بصیرت آن لائن
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام