An Israeli right-wing activist takes part in a protest calling for the release of suspected Jewish attackers, who were arrested by Israel over a July arson attack on a Palestinian home that killed a toddler and his parents, outside the West Bank village of Duma near Nablus, April 5, 2016. The Hebrew script reads, "Reveal the Truth". REUTERS/Ammar Awad - RTSDPT1
مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی پولیس نے دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے پندرہ یہودی کارکنان کو گرفتار کر لیا ہے۔وہ بلا اجازت مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔
مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا قبلہ اول اور ان کے لیے تیسرا مقدس مقام ہے۔یہود بھی اس کو ٹیمپل ماؤنٹ کی وجہ سے اپنے لیے مقدس خیال کرتے ہیں۔انھیں وہاں جانے کی تو اجازت ہے لیکن عبادت کرنے کی اجازت نہیں ہے۔وہ مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہونے کے بعد عبادت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔جب مسلمان انھیں روکتے ہیں تو پھر ان میں دھینگا مشتی ہوجاتی ہے۔
اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ جمعرات کو دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے دسیوں کارکنان مقبوضہ بیت المقدس کے وسط میں جمع ہوئَے تھے اور وہ مسجد اقصیٰ کی جانب جانے کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔
پولیس نے انھیں منتشر ہونے کا حکم دیا لیکن انھوں نے یہ حکم ماننے سے انکار کردیا۔اس کے بعد ان میں سے پندرہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔پولیس کی مداخلت سے قبل ان یہودیوں نے فلسطینیوں کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا تھا۔
پولیس کے بیان کے مطابق انھوں نے ایک انسانی زنجیر بنا لی تھی اور مقامی لوگوں کو مقبوضہ بیت المقدس کے قدیم حصے میں داخل ہونے سے روکنے کوشش کی اور ان کے خلاف تشدد کا ارتکاب کیا ہے۔ بیان میں مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی ہے۔
العربیہ
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام