عراق میں دوسرے روز بھی داعش کے 2 خودکش حملوں میں 20 اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ داعش جنگجوئوں نے جنوبی بغداد میں ذیدان پولیس سٹیشن کو نشانہ بنایا۔ 2 خودکش بمباروں نے خود کو پولیس سٹیشن کے نزدیک دھماکے سے اڑا لیا۔ گزشتہ روز عراقی دارالحکومت بغداد میں ہونے والے 3 کار بم دھماکوں ہلاکتوں کی تعداد 93 ہو گئی ہے۔
گزشتہ روز کے بم دھماکوں کو عراق میں رواں برس کے بدترین حملے قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ دارالحکومت میں سیکیورٹی فورسز کا کنٹرول کس قدر کمزور ہے۔ دوسری جانب عراق میں سیاسی بحران بھی سر اٹھا رہا ہے۔ مقتدی الصدر کی حکومت مخالف احتجاجی تحریک زور پکڑتی جا رہی ہے۔
اردو ٹائمز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان