اتوار کو شہر کے مختلف علاقوں میں غیر رجسٹرڈ مدرسوں کی بڑی تعداد پر پولیس اور رینجرز کی جانب سے چھاپے مارے گئے۔
اس دوران اساتذہ اور طالبعلموں کی بڑی تعداد کو حراست میں لیا گیا، تاہم ان کے کام اور ان کے متعلقہ مدرسے کے معمولات کے بارے میں مختصر پوچھ گچھ کے بعد تقریباً ان تمام کو چھوڑ دیا گیا۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے بچل شاہ کے علاقے میں مدرسہ محمودیہ، سٹی پوائنٹ بائی پاس کے نزدیک واقع مدرسہ جامعہ اشرفیہ، نیو پنڈ کے علاقے میں مدرسہ خلفائے راشدین، مکہ کوٹھ کے نزدیک مدرسہ انوارالعلوم اور شہر کے دوسرے مدرسوں کا محاصرہ کیا اور ان کے ریکارڈز کی جانچ پڑتال کی۔
انہوں نے ان مدرسوں کی مکمل تلاشی کے دوران لیپ ٹاپس، اور کمپیوٹرز کے دیگر سامان، پرنٹڈ لٹریچر، کتابوں کا ریکارڈ، سیل فونزسمیت کمیونیکیشن کا سامان اور دیگر سامان قبضے میں لے لیا اور اپنے ہمرہ لے گئے۔
انہوں نے ان مدرسوں پر چھاپوں کے دوران وہاں موجود تمام اساتذہ اور طالبعلموں کو حراست میں لے لیے اور ان سے پوچھ گچھ کی، لیکن انہیں چند گھنٹوں کے اندر اندر چھوڑ دیا گیا۔
تاہم چار مذہبی پیشواؤں کو وہ مزید پوچھ گچھ کے لیے اپنے ہمراہ لے گئے۔ ان کے نام فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکے، لیکن یہ معلوم ہوا ہے کہ ان کا تعلق کراچی، پیریالیو (خیرپور) اور غوث پور (کندھ کوٹ) سے ہے۔
ان چھاپوں کو نیشنل ایکشن پلان کا حصہ بتایا گیا ہے، جس کا مقصد ملک میں مذہبی انتہاپسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے۔
مذہبی مدرسوں سے کہا گیا ہے کہ وہ کارروائی سے بچنے کے لیے خود کو رجسٹرڈ کروائیں۔
ڈان نیوز
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید