افغانستان کا اب تک پُرامن قرار دیا جانے والے شمالی صوبہ تخار بھی طالبان کی کارروائیوں کی زد میں آگیا ہے، جہاں سڑک کنارے نصب بم کے دھماکے میں ضلعی چیف سمیت 4 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق گورنر صوبہ تخار کے ترجمان ثناء اللہ تیمور کا کہنا ہے کہ بم دھماکے میں ضلع اشکاشم کے چیف حمیداللہ، ایک پولیس افسر اور ان کے دو باڈی گورڈ ہلاک ہوگئے ہیں۔
اے پی نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان کی جانب سے حمیداللہ پر ہونے والے بم حملے کی ذمہ داری قبول کرلی گئی ہے۔
گذشتہ سال میں افغانستان سے ناٹو اور امریکی فوجوں کے انخلاء کے بعد طالبان کی جانب سے موسم سرما کی کارروائیوں کا آغاز رواں سال اپریل 2015ء سے کردیا گیا تھا۔
طالبان کی جانب سے رواں سال اپریل میں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ امارات اسلامی 25 اپریل 2015ء سے ’عزم‘ کے نام سے اپنی موسم سرما کی کاررائیوں کا آغاز کرنے جارہی ہے۔
’ان حملوں میں غیر ملکی قابضین خاص طور پر پیراملٹری کے بیس کمیپس، موجودہ افغان حکومت کے حکام اور ان فوجی مشیروں، خفیہ اداروں کے حکام، وزارت داخلہ اور وزارت دفاع کے حکام کو نشانہ بنایا جائے گا‘۔
ادھر افغانستان کے جنوبی صوبے قندہار کے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ضلع کورتیز میں سڑک کنارے نصب بم کے دھماکے میں ایک خاتون سمیت 3 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
ڈان نیوز
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…