تحفظ اطفال کی بین الاقوامی تنطیم فلسطینی نونہالوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر نظر رکھتی ہے۔ تنظیم نے اپنی حالیہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ سترہ فروری کو مغربی کنارے کے وسطی شہر رام اللہ میں عوفر جیل کے سامنے ہونے والے مظاہرے کو کچلنے کے لئے آگے بڑھنے والے اسرائیلیوں فوجیوں نے ایک نو سالہ فلسطینی بچے کو زبردستی اپنی حملہ آور پارٹی میں شامل کیا تاکہ بچے کی آڑ میں مظاہرین کے ردعمل سے بچا جا سکے۔
تنظیم نے اپنے بیان میں بتایا کہ سترہ فروری کو نو سالہ فلسطینی بچا مصطفی وھدان اپنے بڑی بھائی کے کار واشنگ اسٹیشن جا رہا تھا۔ یہ سروس اسٹیشن بدنام زمانہ عوفر جیل سے صرف تین سو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ جیل کے سامنے فلسطینیوں کے مظاہرے کو منتشر کرنے کے لئے اسرائیلی فوج نے اندھا دھند اشک آور گیس کے شیل فائر کئے، جن سے بچنے کے لئے مصطفی قریبی دکانوں کی اوٹ میں کھڑا تھا کہ اسی دوران چند صہیونی فوجیوں نے اسے پکڑ لیا۔
صہیونی فوجیوں نے مصطفی کے ہاتھ کمر پر پیچھے باندھ دیئے اور اسے تادیر اپنی جانب بڑھنے کے لئے تیار مظاہرین کے سامنے انسانی شیلڈ کے طور پر استعمال کرتے رہے۔ اسرائیلی فوجی اس دوران مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے اشک آور گیس اور ربڑ کی گولیاں فائر کرتے رہے لیکن فلسطینی نوجوان کو سامنے دیکھ کر انہوں نے اسرائیلی فوجیوں پر پتھراؤ بند کر دیا۔
فلسطینی بچے دھدان نے بتایا کہ اسرائیلی فوجی جب بھی مظاہرین پر آنسو گیس شیل فائر کرنا چاہتے مجھے ساتھ کھڑا کر کے گولا فائر کرتے۔ میں انتہائی خوفزدہ تھا کہ مجھے کوئی پتھر یا دوسری چیز نہ لگ جائے۔ مصطفی وھدان نے بتایا کہ کئی گھنٹے کے اس آپریشن میں ایک فوجی اہلکار مسلسل میری کمر کے ساتھ اپنی گن لگائے کھڑا رہا تاکہ میں بھاگ نہ سکوں۔
مصطفی کے والد نے بتایا کہ ان کا بیٹا واقعے کے کئی دن بعد تک انتہائی خوفزدہ رہا اور اس نے کئی دن کھانا بھی نہیں کھایا۔ بچے کی والدہ کا کہنا ہے مصطفی رات کو سوتے میں اکثر ڈر کر اٹھ جاتا تھا۔
انسانی حقوق کی انجمن کا کہنا ہے کہ انسانوں کو بطور شیلڈ استعمال کرنا بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ اس عمل میں نہتے شہریوں کو کسی علاقے یا فوج کو بچانے کے لئے زبردستی ساتھ رکھنا اور انہیں فوجی کارروائی میں براہ راست شامل کرانے جیسے اقدام شامل ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…