اس کارروائی سے طالبان واضح طور پر یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ ان کے حملوں کا ہدف اب نیٹو فوجیوں کے مقابلے میں افغان زیادہ ہیں۔ یہ حملہ افغان دارالحکومت کی بھاری سکیورٹی والی ایک مرکزی سڑک پر ہوا۔ طالبان پہلے ہی سال رواں میں انٹیلیجنس اور ٹریفک پولیس ہیڈکوارٹرز پر ہونے والے خود کُش حملوں کی ذمہ داری قبول کر چُکے ہیں۔
مغربی حکام کا کہنا ہے کہ طالبان کا یہ رجحان اُن کی حکمت عملی میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی ہے اور اُن کی توجہ اب آئندہ برس افغانستان سے نکل جانے والی اورامریکی قیادت میں تعینات مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے جنگی مشن سے ہٹ کر ملکی سکیورٹی فورسز پر مرکوز ہو گئی ہے۔
درایں اثناء بدھ کو ہونے والے خودکُش حملے کی تصدیق کرتے ہوئے افغان پولیس کے ترجمان حشمت اللہ نے بتایا کہ مقامی وقت کے مطابق صبح سات بج کر دس منٹ پر کابل کے تیسرے ڈسٹرکٹ میں ایک پیدل خود کُش بم حملہ آور نے ایک ملٹری بس کے نزدیک خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔
اُدھر ایک عینی شاہد نے ٹولو ٹیلی وژن چینل کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ اس خود کُش بم حملہ آور نے برف باری سے بچاؤ کے لیے ہاتھ میں چھتری اٹھا رکھی تھی۔ عینی شاہد کا کہنا تھا کہ میں سڑک کے پار کھڑا تھا جب میں نے ایک شخص کو چھتری اُٹھائے ملٹری بس کی طرف بڑھتے دیکھا۔ وہ پھسلتا ہوا بس کے نیچے چلا گیا، میں نے سمجھا کہ وہ بس ڈرائیور ہے۔ تاہم چند ہی لمحوں میں ایک زور دار دھماکہ سنائی دیا۔
افغانستان میں گزشتہ 11 سالوں سے مغرب نواز حکومت کے خلاف جنگ کرنے والے طالبان کے ایک ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اے ایف پی کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ اس حملے کے نتیجے میں افغان فوج کے 17 اہلکار ہلاک اور 17 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم طالبان کی طرف سے حملوں میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کے بارے میں عام طور سے مبالغہ آرائی سے کام لیا جاتا ہے۔
اے ایف پی کی طرف سے ریکارڈ کیے جانے والے سال رواں میں افغانستان میں اب تک ہونے والے 9 حملوں میں سے محض ایک کا ہدف نیٹو فوجی تھے۔ یہ حملہ 25 جنوری کو شورش زدہ مشرقی صوبے کاپیسا میں ہوا تھا جس میں پانچ شہری ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ دیگر تمام حملوں کا نشانہ قبائلی عمائدین، پولیس یا افغان خفیہ ایجنسی کے ایجنٹوں کو بنایا گیا۔
ایک مغربی سکیورٹی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ سال رواں کے آغاز سے طالبان کے حملوں کا نشانہ افغان ہی رہے ہیں خواہ حملے کا ہدف نیٹو فوجی ہی بنے ہوں۔
گزشتہ روز پینٹاگان نے خود اس امر کا اقرار کیا کہ گزشتہ برس نیٹو کی انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹنس فورس نے اپنی رپورٹ میں غلطی سے طالبان حملوں میں سات فیصد کمی کا دعویٰ کیا تھا۔ پینٹاگون کے مطابق 2012ء میں طالبان حملوں کی تعداد کم و بیش 2011ء جتنی ہی تھی۔ پینٹاگان کے ایک ترجمان جارج لٹل کے بہ قول یہ ہمارے ڈیٹا بیس سسٹم کی ایک افسوسناک غلطی ہے جس کا ہمیں معمول کے کوالٹی کنٹرول چیک کے ذریعے پتہ چلا۔ ہم اس سلسلے میں مناسب ایڈجسٹمنٹ کر رہے ہیں۔
افغانستان میں امریکا کے زیر قیادت تعینات نیٹو کے ایک لاکھ فوجیوں پر مشتمل فورسز کی ایک بڑی تعداد آئندہ برس وہاں سے نکل جائے گی اور مغربی دفاعی اتحاد کے زیر تربیت 352,000 تربیت یافتہ افغان پولیس اور فوجی اہلکار ملکی سلامتی کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…