بيانات

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 13 فروری 2026 کو زاہدان میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ملک میں جنوری کے واقعات کو انتہائی تلخ، لرزہ خیز اور ایران کی تاریخ میں بے مثال قرار دیا۔ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ ان واقعات کا جواز پیش کرنے کے بجائے عوام اور سوگوار خاندانوں سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات کے سامنے سر تسلیم خم کریں۔

ایرانی قوم محسوس کرتی ہے کہ دیگر اقوام کے درمیان اس کی تذلیل ہوئی ہے
سنی آن لائن نے رپورٹ دی ہے، مولانا عبدالحمید نے کہا: 8 اور 9 جنوری کو ملک میں پیش آنے والے واقعات انتہائی تلخ اور لرزہ خیز تھے جو ایران کی تاریخ میں بے مثال ہیں۔ بعض حکام ان واقعات کا جواز پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور میں اس حوالے سے کچھ باتیں کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے عوام نے ملک میں اسلامی جمہوریہ کا نظام قائم کیا اور انقلاب کے بعد اس نظام کی حمایت کی، لیکن ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ آج عوام کس حال اور کس پوزیشن میں ہیں۔ ایرانی قوم دنیا کی سربلند اور امیر ترین اقوام میں سے ایک رہی ہے، لیکن آج وہ غربت اور تنگدستی میں پھنسے ہوئے ہیں اور محسوس کرتے ہیں کہ دیگر اقوام کے درمیان ان کی تذلیل ہوئی ہے اور وہ پرانا وقار باقی نہیں رہا۔
ممتاز عالم دین نے کہا: ملک کے لوگ ان دنوں اپنے بچوں کی شادی کے اخراجات پورے کرنے کی سکت نہیں رکھتے، گھر کا سربراہ بیوی بچوں کے اخراجات پورے نہیں کر پا رہا۔ ملازمین، ریٹائرڈ افراد اور مزدور اس تنخواہ میں زندگی بسر نہیں کر سکتے۔ تجارت اور بازار بھی شدید مشکلات کا شکار ہیں اور تاجر دیوالیہ ہو چکے ہیں۔ دیہاتیوں کے لیے بھی زندگی بہت مشکل ہو گئی ہے۔ عوام کو دی جانے والی سبسڈی کی بھی کوئی قدر نہیں کیونکہ ملکی کرنسی کی کوئی قیمت نہیں رہی۔

عوام نے بارہا تبدیلی کے لیے دہائی دی لیکن ان کی پکار نہیں سنی گئی
مولانا عبدالحمید نے کہا :ایرانی عوام نے جب ان مشکل حالات کا سامنا کیا تو انہوں نے محسوس کیا کہ ملک کو اس صورتحال سے نجات ملنی چاہیے اور ایک بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ایک طویل عرصے سے ایرانی عوام تبدیلی کے خواہاں ہیں اور انہوں نے بارہا اس کے لیے دہائی دی اور ہر بار جانی نقصان اٹھایا، لیکن انہوں نے محسوس کیا کہ انہیں دیکھا نہیں گیا اور ان کی پکار نہیں سنی گئی۔
انہوں نے مزید کہا :عوام 2019 اور 2022 کو میدان میں آئے، احتجاج کیا اور جانیں دیں، لیکن ایرانی عوام کی حالیہ تحریک جو جنوری 2026 میں برپا ہوئی وہ بہت بھاری تھی جس میں ملک کے مختلف شہروں میں ہمارے بہت سے ہم وطن جاں بحق اور زخمی ہوئے، بڑی تعداد میں گرفتاریاں ہوئیں اور بہت سے خاندان سوگوار ہوئے۔

حکام کے جواز پیش کرنے سے عوام کے دلوں کو تسلی نہیں ملتی
خطیبِ زاہدان نے واضح کیا: جنوری کے واقعات میں عوام کو پہنچنے والے جانی نقصان کا کوئی جواز نہیں ہے۔ بعض حکام اس معاملے کو چھپانے کے لیے جواز تراش رہے ہیں۔ کچھ کہتے ہیں کہ یہ داعش اور دیگر گروہ تھے۔ شاید دوسرے نہ جانتے ہوں لیکن ہم ایرانی ایک دوسرے کی زبان خوب سمجھتے ہیں۔ کیا داعش اور اس طرح کے گروہوں کے پاس اتنی طاقت اور افرادی قوت ہے کہ وہ ایک سو شہروں میں بیک وقت لوگوں کو قتل کریں اور مسائل پیدا کریں؟ اس لیے بہتر ہے کہ حکام ان بے سروپا جوازات کے بجائے قوم سے معافی مانگیں اور عوام کے مطالبات مان لیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا: ان بہانوں اور جوازات سے لوگوں کے دلوں کو تسلی نہیں ملتی۔ عوام غمزدہ اور پریشان ہیں، جیسا کہ ملک کے اندر اور باہر بعض سیاسی کارکنوں اور جماعتوں نے مختلف بیانات میں اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور ملک و قوم کی نجات کے لیے تجاویز پیش کی ہیں۔
مولانانے کہا: جو لوگ ملک کے اندر اور باہر سے تجاویز دے رہے ہیں وہ ملک کے خیر خواہ ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ باہر بیٹھے لوگوں میں چند مفاد پرست ہوں لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے۔ بیرون ملک مقیم تمام ایرانی ہمارے ہم وطن ہیں اور اگر وہ کوئی احتجاج کرتے ہیں تو وہ ملک اور عوام کی ہمدردی میں ہے۔ ایران کے جو لوگ میدان میں آئے اور احتجاج کیا وہ اسرائیلی یا امریکی نہیں تھے بلکہ ہمارے عزیز ایرانی ہم وطن تھے۔ عوام ملک کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں، حکام کو ان لوگوں کے لیے ہمدردی رکھنی چاہیے۔

اگر حکام عوام کی پکار سن لیتے تو یہ مسائل پیدا نہ ہوتے
مولانا عبدالحمید نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: میں ان تمام برسوں میں جو باتیں کر رہا تھا اور انتباہ دے رہا تھا، وہ اسی لیے تھا کہ میں وہ دن دیکھ رہا تھا کہ جب لوگ مصیبت میں ہوں گے اور ملک بند گلی میں پھنس جائے گا تو لوگ چیخیں گے، احتجاج کریں گے اور مسائل پیدا ہوں گے۔ ایک عربی مثل ہے کہ جب انسان مایوس ہو جاتا ہے تو اس کی زبان دراز ہو جاتی ہے اور وہ پکار اٹھتا ہے۔
انہوں نے تاکید کی: اگر حکام عوام کی پکار سنتے اور ان کی داد رسی کرتے تو عوام اور حکام کے لیے یہ مسائل پیدا نہ ہوتے۔ دنیا کے بہت سے ممالک میں حکام عوام کی بات سنتے ہیں، یا تو ان کے مسائل حل کر کے ان کی رضامندی حاصل کرتے ہیں یا پھر اپنے عہدوں سے دستبردار ہو جاتے ہیں، لیکن دنیا کے کسی ملک میں عوام کے ساتھ اس طرح کا سلوک نہیں کیا گیا۔

اگر عوام کسی عہدیدار کی دستبرداری چاہتے ہیں تو اسے ہٹ جانا چاہیے
صدرِ جامعہ دارالعلوم زاہدان نے تصریح کی: حکام کو دیکھنا چاہیے کہ عوام کیا چاہتے ہیں؛ اگر عوام کسی عہدیدار کی دستبرداری کا مطالبہ کر رہے ہیں تو اس عہدیدار کو ہٹ جانا چاہیے۔ یہ شرعی لحاظ سے بھی اور عالمی و سماجی عرف کے لحاظ سے بھی ایک پسندیدہ عمل ہے۔ جس طرح بھی ممکن ہو عوام کی رضامندی حاصل کی جانی چاہیے اور قوم کے مطالبات چاہے وہ کڑوے ہی کیوں نہ ہوں، تسلیم کیے جانے چاہئیں؛ اس اقدام کا ثمرہ میٹھا ہوگا۔

سیاسی کارکنوں کو جیلوں میں نہ ڈالیں
مولانا عبدالحمید نے اپنی گفتگو میں سیاسی کارکنوں کی حالیہ گرفتاریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں متعدد سیاسی کارکنوں اور جماعتوں کے رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سیاسی کارکنوں کو جیل میں نہ ڈالیں اور انہیں سزا نہ دیں بلکہ سابقہ سیاسی قیدیوں کو بھی رہا کریں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں ملک کو قومی یکجہتی کی ضرورت ہے اور سیاسی کارکنوں سمیت پوری ایرانی قوم کی بات سنی جانی چاہیے۔ اگر ہم عوام کی بات سنیں اور ان کے مطالبات مان لیں تو ملک کی سلامتی محفوظ رہے گی اور ملک جنگ میں نہیں پھنسے گا۔

پھانسیوں کی وجہ سے عوام میں نفرت پیدا ہوئی ہے / جبری اعتراف کا کوئی شرعی یا قانونی جواز نہیں
مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے ایک اور حصے میں بڑھتی ہوئی پھانسیوں کے نتائج کا ذکر کرتے ہوئے کہا : انقلاب کے آغاز سے اب تک ہونے والی پھانسیاں، جن میں حالیہ برسوں میں شدت آئی ہے، عوام میں نفرت کا باعث بنی ہیں۔ یہ پھانسیاں شرعی، بین الاقوامی قوانین اور خود اسلامی جمہوریہ کے قانون کے لحاظ سے کسی صورت قابل قبول نہیں ہیں۔ جبری اعتراف کا بھی کوئی شرعی، فقہی یا قانونی جواز نہیں ہے اور ملک کے موجودہ قانون میں بھی یہ ممنوع ہے۔

ہم اغوا کاری کے واقعات پر مشکوک ہیں / اغوا کاروں کی شناخت ہونی چاہیے
خطیبِ اہل سنت زاہدان نے صوبہ سیستان بلوچستان میں اغوا کاری کے بڑھتے ہوئے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا : اغوا کاری ایک انتہائی قبیح اور تکلیف دہ عمل ہے جو بدقسمتی سے صوبے اور زاہدان شہر میں بہت بڑھ گیا ہے۔ جو لوگ یہ کام کر رہے ہیں وہ بے انصاف لوگ ہیں اور ہمیں ان پر شک ہے کہ وہ کون ہیں! اغوا کاروں کی شناخت ہونی چاہیے اور مغویوں کو رہا کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے تاکید کی کہ عدلیہ، پولیس، سیکیورٹی اداروں اور ان تمام اداروں کی شرعی اور قانونی ذمہ داری بہت بھاری ہے جو صوبے کی سیکیورٹی کے ذمہ دار ہیں۔ صوبے، اضلاع اور زاہدان شہر کی سیکیورٹی اہم ہے اور اسے برقرار رکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے قبائل اور مختلف برادریوں کو بھی اغوا کاری کے خلاف اٹھنے کی تلقین کی اور کہا کہ علماء، عمائدین اور قبائلی معتبرین کی بھی اس سلسلے میں ذمہ داری بنتی ہے۔ قبائل کو ہوشیار رہنا چاہیے کہ اغوا کار اپنے قبیلے کے پیچھے نہ چھپ سکیں۔

مولانا یار محمد ایک اعلیٰ پایہ کے عالم تھے جنہوں نے سیستان میں بہت خدمات انجام دیں
شیخ الحدیث جامعہ دارالعلوم زاہدان نے ہیرمند کے ممتاز عالم دین اور خطیب مولانا یار محمد براہوئی کی وفات پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا: مولانا یار محمد ایک بہترین عالم تھے جنہوں نے سیستان کے علاقے میں بہت سے خدمات انجام دیں۔ انہوں نے ہیرمند میں ایک عظیم الشان مسجد تعمیر کی۔ میں اس عالم دین کی وفات پر ان کے خاندان اور ہیرمند و سیستان کے عوام سے تعزیت کرتا ہوں۔

مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے آخر میں عوام سے اپیل کی کہ وہ بدھ 18 فروری کی شام کو رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کی کوشش کریں۔

baloch

Recent Posts

مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام

مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام

1 day ago

ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا

ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا

1 day ago

کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے والوں کے لیے نجات کا آخری راستہ ہے

کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…

3 days ago

زاہدان کے علما و قرآنی کارکنان کا مشاورتی اجلاس منعقد

زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…

3 days ago

مولانا مفتی محمدقاسم بنی‌کمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام

مولانا مفتی محمدقاسم بنی‌کمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام

1 week ago